اونٹاریو میں قیدیوں کی غلط رہائی پر ہنگامہ،پریمیئر شدید برہم، سخت اقدامات کا اعلان

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے صوبے اونٹاریو میں جیلوں سے قیدیوں کی غلط رہائی کے انکشاف نے سیاسی ہلچل مچا دی ہے، جہاں پریمیئر ڈگ فورڈ نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی ہے کہ آئندہ کسی قیدی کو غلطی سے رہا نہیں ہونے دیا جائے گا۔

اطلاعات کے مطابق دو ہزار اکیس سے دو ہزار پچیس کے دوران کم از کم ایک سو ستاون قیدیوں کو غلطی سے جیلوں سے رہا کر دیا گیا۔ یہ انکشاف سرکاری دستاویزات کے ذریعے سامنے آیا، جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ زیادہ تر غلطیاں جیل انتظامیہ اور عدالتوں میں ہوئیں، جن میں بعض انتظامی کوتاہیاں جبکہ کچھ انسانی غلطیاں شامل تھیں۔

پریمیئر ڈگ فورڈ نے اس صورتحال پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس معاملے کی جڑ تک پہنچیں گے اور ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک ناقابلِ قبول صورتحال ہے اور وہ اس پر انتہائی غصے میں ہیں۔

صوبائی سالیسٹر جنرل مائیکل کرزنر نے بھی تسلیم کیا کہ قیدیوں کی غلط رہائی کے واقعات پیش آئے، تاہم ان کا دعویٰ تھا کہ تمام قیدیوں کو فوری طور پر دوبارہ گرفتار کر لیا گیا۔ تاہم انہوں نے اس دعوے کے حق میں کوئی واضح ثبوت فراہم نہیں کیا، جس پر حزبِ اختلاف نے سوالات اٹھائے۔

عبوری لبرل رہنما جان فریزر نے حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ عوام کے سامنے مکمل تفصیلات پیش کی جائیں، بشمول یہ کہ قیدی کن جرائم میں ملوث تھے اور انہیں کیسے دوبارہ گرفتار کیا گیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر سالیسٹر جنرل اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں ناکام رہے ہیں تو انہیں عہدے سے ہٹا دینا چاہیے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ مائیکل کرزنر کو اس مسئلے پر ایک سال قبل بریفنگ دی جا چکی تھی، مگر انہوں نے اس پر عوامی سطح پر کارروائی کا اعلان حال ہی میں کیا۔ اس کے باوجود وزیرِ اعلیٰ نے ان کی حمایت جاری رکھتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں بخوبی انجام دے رہے ہیں، تاہم اس معاملے کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔

دوسری جانب صوبے کی جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی رکھے جانے کا مسئلہ بھی شدت اختیار کر چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق عدالتوں میں مقدمات کے انبار، عملے کی کمی اور زیرِ سماعت قیدیوں کی بڑی تعداد اس بحران کی بنیادی وجوہات ہیں۔ حکام کے مطابق تقریباً اسی فیصد قیدی ایسے ہوتے ہیں جن کے مقدمات ابھی زیرِ سماعت ہوتے ہیں اور وہ قانونی طور پر بے گناہ تصور کیے جاتے ہیں۔

حکومت نے طویل المدتی منصوبے کے تحت مزید جیلیں تعمیر کرنے اور تقریباً چھ ہزار نئی قیدیوں کی گنجائش پیدا کرنے کا عندیہ دیا ہے، جس پر اربوں ڈالر لاگت آنے کا امکان ہے۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ سرمایہ عدالتوں کے نظام میں بہتری، ذہنی صحت کی سہولیات اور سماجی معاونت پر خرچ کیا جائے تو اس سے جیلوں پر دباؤ کم کیا جا سکتا ہے۔

یہ معاملہ نہ صرف انتظامی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے بلکہ انصاف کے نظام پر عوامی اعتماد کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے، جس کے حل کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات ناگزیر سمجھے جا رہے ہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں