اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) عمان میں جاری اہم مذاکرات کے دوران ایران نے امریکا کی جانب سے یورینیم افزودگی روکنے کا مطالبہ دوٹوک انداز میں مسترد کر دیا
واضح کردیا ہے کہ وہ اپنے جوہری پروگرام پر کسی دباؤ کو قبول نہیں کرے گا۔ تہران کا مؤقف ہے کہ یورینیم افزودگی اس کا قانونی حق ہے اور وہ اسے ہر صورت برقرار رکھے گا۔رپورٹس کے مطابق مذاکرات میں واشنگٹن نے ایران پر زور دیا تھا کہ وہ اپنی یورینیم افزودگی کی سرگرمیوں کو بند کرے یا کم از کم اس سطح تک محدود کردے جو اسے ممکنہ طور پر جوہری ہتھیار بنانے کے قریب لے جا سکتی ہے۔ تاہم ایرانی حکام نے اس مطالبے کو رد کرتے ہوئے کہا کہ افزودگی کے عمل میں کسی قسم کا وقفہ یا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ان کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پُرامن مقاصد، بالخصوص توانائی اور سائنسی ترقی کے لیے ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران کسی ایسے معاہدے پر آمادہ نہیں ہوگا جو اس کے سائنسی اور تکنیکی حقوق کو متاثر کرے۔دوسری جانب امریکا کا مؤقف ہے کہ ایران کی بڑھتی ہوئی افزودگی عالمی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے، اسی لیے واشنگٹن چاہتا ہے کہ مذاکرات کا محور صرف نیوکلیئر پروگرام تک محدود رکھا جائے تاکہ تہران کو ممکنہ ہتھیار سازی کے راستے سے دور رکھا جا سکے۔
واضح رہے کہ یورینیم افزودگی کا معاملہ طویل عرصے سے ایران اور امریکا کے درمیان بنیادی اختلافات میں شامل رہا ہے۔ ایران اسے اپنی خودمختاری اور توانائی کی ضروریات کا حصہ قرار دیتا ہے، جبکہ امریکا اور اس کے اتحادی اسے جوہری پھیلاؤ کے خدشات سے جوڑتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ایران کا سخت مؤقف مذاکرات کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے اور خطے کی سیاسی صورتحال پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔