اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) ایران اور امریکا کے درمیان جاری فوجی کشیدگی میں ایک بار پھر شدت آنے کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ
امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا ہے کہ امریکی افواج نے ایران کے مختلف علاقوں میں پاسداران انقلاب سے منسلک درجنوں فوجی اہداف کو فضائی حملوں میں نشانہ بنایا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ کارروائی ایک روز قبل امریکی افواج پر کیے گئے مبینہ ایرانی بیلسٹک میزائل حملے کے جواب میں کی گئی۔
امریکی فوج کے مطابق کارروائی میں ایران کی فوجی صلاحیتوں سے متعلق مختلف تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ دوسری جانب ایرانی میڈیا نے بھی جنوبی ایران کے مختلف علاقوں میں امریکی حملوں کی اطلاعات دی ہیں۔ ایرانی رپورٹس کے مطابق قشم جزیرے اور آبادان کے اطراف کئی مقامات پر حملے کیے گئے ہیں۔
متعدد اہداف نشانہ بنانے کا دعویٰ
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق ایران میں ہونے والی کارروائی کے دوران فوجی کمانڈ سینٹرز سمیت میزائل اور ڈرون تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی فوج نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ساحلی دفاعی مراکز اور ایرانی بحری فوج کی صلاحیتوں سے متعلق متعدد اہداف حملوں کا نشانہ بنے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد خطے میں موجود امریکی افواج کو درپیش خطرات کو کم کرنا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ خلیجی اتحادی ممالک اور بین الاقوامی تجارتی جہاز رانی کو لاحق خطرات میں کمی لانا بھی امریکی کارروائی کا ایک اہم مقصد قرار دیا گیا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق حالیہ حملے اس وسیع تر فوجی کارروائی کا حصہ ہیں جس کا مقصد ایران کی جانب سے امریکی اور اتحادی افواج کے خلاف ممکنہ حملوں کی صلاحیت کو محدود کرنا ہے۔
مبینہ ایرانی میزائل حملے کے جواب میں کارروائی
امریکی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ تازہ فضائی حملے ایک روز قبل امریکی افواج پر ہونے والے مبینہ ایرانی بیلسٹک میزائل حملے کے جواب میں کیے گئے۔ امریکی مؤقف کے مطابق ایرانی حملے کے بعد خطے میں موجود امریکی فوجی تنصیبات اور اہلکاروں کو لاحق خطرات کا جائزہ لیا گیا اور اس کے بعد ایران میں مختلف فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔
تاہم ایران کی جانب سے امریکی دعوے کی مکمل تفصیلات یا اس حملے کے بارے میں ایسا مؤقف سامنے نہیں آیا جس سے تمام امریکی الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق ہوسکے۔
قشم میں صبح سویرے دھماکوں کی اطلاعات
دوسری جانب ایرانی میڈیا نے جنوبی ایران میں امریکی حملوں کی اطلاعات دی ہیں۔ ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق جمعرات کی صبح قشم جزیرے اور آبادان کے اطراف متعدد مقامات پر حملے ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں :
امریکہ اور ایران کے ایک دوسرے پر شدید حملے،جنگ بندی خاتمے کا اعلان
صوبہ ہرمزگان کے نائب گورنر احمد نفیسی کے حوالے سے بتایا گیا کہ مقامی وقت کے مطابق صبح تقریباً چار بجے قشم جزیرے کے قریب ایک مقام کو امریکی فوج نے نشانہ بنایا۔
قشم ایران کے جنوبی حصے میں واقع ایک اہم جزیرہ ہے اور خلیج فارس کے حساس سمندری علاقے میں اس کی جغرافیائی حیثیت خاص اہمیت رکھتی ہے۔ یہاں کسی بھی فوجی کارروائی کو خطے کی موجودہ کشیدہ صورتحال کے تناظر میں انتہائی اہم سمجھا جارہا ہے۔
آبادان کے اطراف بھی میزائل حملوں کا دعویٰ
ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس نے صوبہ خوزستان کے ایک عہدیدار کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ آبادان شہر کے اطراف بھی امریکی میزائل حملے کیے گئے۔
آبادان ایران کا ایک اہم شہر ہے جو خوزستان کے علاقے میں واقع ہے۔ یہ علاقہ تیل اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کے حوالے سے بھی اہمیت رکھتا ہے۔ ایسے میں یہاں کسی بھی فوجی کارروائی کے ممکنہ اثرات صرف مقامی سطح تک محدود نہیں رہتے بلکہ توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور خطے کی معاشی سرگرمیوں پر بھی اثرانداز ہوسکتے ہیں۔
جانی اور مالی نقصان کی تفصیلات سامنے نہ آسکیں
ایرانی حکام کی جانب سے اب تک امریکی حملوں کے نتیجے میں ہونے والے ممکنہ جانی یا مالی نقصان کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں۔ اسی طرح امریکی حکام نے بھی ان حملوں کے نتیجے میں ہونے والے نقصان یا اہداف کو پہنچنے والے نقصانات کے بارے میں مکمل معلومات فراہم نہیں کیں۔
حملوں کے بعد دونوں جانب سے سامنے آنے والے بیانات میں زیادہ توجہ فوجی اہداف اور کارروائی کے مقاصد پر مرکوز رہی ہے۔ آزاد ذرائع سے بھی فی الحال حملوں کے تمام دعووں کی مکمل تصدیق نہیں ہوسکی۔
خطے اور عالمی توانائی منڈیوں پر اثرات کا خدشہ
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان تازہ فوجی کارروائی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی نشاندہی کرتی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان براہ راست فوجی حملوں کا سلسلہ طویل ہوتا ہے تو اس کے اثرات خلیجی ممالک اور مشرق وسطیٰ کی مجموعی سلامتی پر پڑ سکتے ہیں۔
خلیج فارس دنیا کے اہم ترین توانائی کے مراکز میں شمار ہوتا ہے۔ یہاں بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا سبب بن سکتی ہے۔ اس کے علاوہ بین الاقوامی تجارتی جہاز رانی بھی متاثر ہونے کا خدشہ موجود ہے۔
یہ بھی پڑھیں :
امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے ،صنعتی و جوہری اہداف تباہ
حالیہ امریکی حملوں اور ایران میں قشم اور آبادان کے قریب دھماکوں کی اطلاعات نے ایک بار پھر خطے کی صورتحال کو انتہائی حساس بنا دیا ہے۔ آنے والے دنوں میں دونوں ممالک کی جانب سے کیے جانے والے ممکنہ اقدامات اس بات کا تعین کریں گے کہ یہ کشیدگی مزید بڑھتی ہے یا سفارتی سطح پر اسے کم کرنے کی کوئی کوشش کامیاب ہوتی ہے۔