اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) امریکی صحافت ایک بار پھر ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے۔
واشنگٹن میں پینٹاگون کی جانب سے جاری کیے گئے نئے قومی سلامتی کے ضوابط کو امریکہ کے پانچ بڑے نشریاتی اداروں ABC، CBS، CNN، NBC اور Fox News — نے مشترکہ طور پر مسترد کرتے ہوئے یہ واضح پیغام دیا ہے کہ آزادیٔ صحافت کسی سرکاری ہدایت یا سیکیورٹی پالیسی کے تابع نہیں بنائی جا سکتی۔پینٹاگون کی نئی پالیسی کے مطابق دفاعی اور قومی سلامتی سے متعلق خبروں کی اشاعت یا نشر سے قبل بعض حساس معلومات کے لیے سرکاری منظوری درکار ہوگی۔ بظاہر اس اقدام کا مقصد ’’قومی مفادات‘‘ کا تحفظ بتایا جا رہا ہے، لیکن حقیقت میں یہ ضابطے ذرائع ابلاغ کی آزادانہ رپورٹنگ اور شفاف معلومات کی فراہمی پر براہِ راست قدغن کے مترادف ہیں۔
امریکی میڈیا اداروں نے اپنے مشترکہ بیان میں بجا طور پر کہا ہے کہ ایسے قوانین صحافیوں کی اس بنیادی ذمہ داری میں رکاوٹ ڈالیں گے جس کے تحت وہ عوام کو باخبر رکھنے اور حکومت کو جواب دہ بنانے کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ اقدامات آئین کی پہلی ترمیم میں دیے گئے آزادیٔ اظہار اور آزادیٔ صحافت کے اصولوں سے متصادم ہیں۔یہ پہلا موقع نہیں جب امریکی حکومت یا اس کے ادارے ’’قومی سلامتی‘‘ کے نام پر اطلاعات پر کنٹرول کی کوشش کر رہے ہوں۔ ماضی میں بھی ویتنام جنگ، عراق اور افغانستان کے تنازعات کے دوران حکومت نے میڈیا پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی، مگر امریکی صحافت کی طاقت اور پیشہ ورانہ استقلال نے ایسے جبر کو ہمیشہ چیلنج کیا۔
آج ایک بار پھر وہی سوال سر اٹھا رہا ہے:کیا ’’قومی سلامتی‘‘ کی آڑ میں عوام کے جاننے کے حق کو محدود کیا جا سکتا ہے؟کیا حکومت یہ طے کرے گی کہ کون سی معلومات قوم کے لیے ’’محفوظ‘‘ ہیں اور کون سی نہیں؟امریکی میڈیا کا یہ اجتماعی انکار دراصل آزادیٔ صحافت کے دفاع کا اعلان ہے۔ ان اداروں نے واضح کر دیا ہے کہ اگر سچ پر تالے لگانے کی کوشش کی گئی تو وہ ان تالوں کو توڑنے کے لیے یکجا ہوں گے۔ یہی وہ جذبہ ہے جو کسی بھی جمہوری معاشرے کو زندہ اور جواب دہ رکھتا ہے۔آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ صحافت اگر حکومت کی ترجمان بن جائے تو جمہوریت کی روح مر جاتی ہے۔ امریکی میڈیا کا یہ جرات مندانہ قدم صرف امریکہ کے لیے نہیں بلکہ دنیا بھر کے صحافیوں کے لیے آزادیٔ صحافت کا ایک مضبوط پیغام ہے — کہ سچائی کو دبانے کی ہر کوشش بالآخر ناکام ہوتی ہے۔