اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) یورپی ملک سوئٹزرلینڈ نے امریکا کی دو فوجی پروازوں کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔
سوئس حکام کے مطابق یہ فیصلہ ملک کے غیرجانبداری کے قانون کے تحت کیا گیا ہے، جس کے مطابق جنگ یا مسلح کارروائی سے متعلق فوجی پروازوں کو سوئٹزرلینڈ کی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔سوئٹزرلینڈ کی حکومت نے بتایا کہ امریکا کی دیگر تین پروازوں کو اجازت دی گئی ہے کیونکہ وہ جنگی کارروائی سے متعلق نہیں تھیں۔ ان میں انسانی ہمدردی اور طبی امداد کی ترسیل کے لیے پروازیں شامل ہیں۔ سوئس حکام کا کہنا ہے کہ زخمیوں کی منتقلی اور دیگر غیر جنگی نوعیت کی پروازیں بھی فضائی حدود استعمال کر سکتی ہیں، جس سے ملک کے غیرجانبدارانہ موقف کو قائم رکھا جا سکے۔
سوئٹزرلینڈ کی فضائی حدود کی پابندی کا مقصد ملک کی غیرجانبداری کو یقینی بنانا ہے اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ملک کسی بھی بین الاقوامی یا علاقائی تنازعے میں براہ راست ملوث نہ ہو۔ حکام کے مطابق جنگ سے متعلق فوجی پروازوں کو اجازت دینا سوئٹزرلینڈ کے غیرجانبداری کے قانون کی خلاف ورزی ہوگی، اس لیے یہ فیصلہ سخت قانونی بنیادوں پر کیا گیا۔
سوئٹزرلینڈ کے وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کرتے ہیں اور اپنی فضائی حدود کو کسی بھی فوجی جھڑپ یا تنازعے کے لیے استعمال ہونے سے روکیں گے۔ تاہم انسانی ہمدردی، طبی امداد اور غیر جنگی نوعیت کی پروازوں کے لیے اقدامات کیے جائیں گے تاکہ ضرورت مندوں تک امداد پہنچ سکے۔تجزیہ کاروں کے مطابق سوئٹزرلینڈ کا یہ فیصلہ خطے میں کشیدگی کے دوران اہم پیغام ہے کہ ملک عالمی تنازعات میں غیرجانبدار رہنے کے موقف پر قائم ہے۔ حکام نے واضح کیا کہ غیر جنگی نوعیت کی پروازوں کی اجازت اس بات کا ثبوت ہے کہ سوئٹزرلینڈ انسانی اور طبی امداد کی فراہمی میں کردار ادا کرنے کو ترجیح دیتا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق امریکا اور دیگر ممالک کی جانب سے فضائی حدود استعمال کرنے کی درخواستیں بڑھ رہی ہیں، لیکن سوئٹزرلینڈ نے قانون کے مطابق سختی سے فیصلہ کیا ہے تاکہ ملک کسی فوجی تنازعے میں براہ راست ملوث نہ ہو۔سوئٹزرلینڈ کے غیرجانبداری کے قانون کے تحت یہ ممکن ہے کہ ملک اپنی فضائی حدود کو مکمل طور پر کنٹرول کرے اور کسی بھی ملک کی فوجی پروازوں کو روکنے یا اجازت دینے کا اختیار رکھتا ہے۔ حکام کے مطابق امریکا کی دو فوجی پروازوں کو روکا جانا اسی قانون کی پاسداری ہے اور اس کا مقصد ملک کی سکیورٹی اور غیرجانبدارانہ موقف کو برقرار رکھنا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سوئٹزرلینڈ کا یہ فیصلہ بین الاقوامی تعلقات میں ایک اہم قدم ہے، کیونکہ اس سے عالمی سطح پر اس کی غیرجانبداری اور قانون کی پاسداری کو مزید مستحکم کیا جائے گا۔ ایسے فیصلے خطے میں جاری کشیدگی میں محتاط اقدامات کرنے کی ضرورت کی بھی نشاندہی کرتے ہیں۔
اس سے قبل سوئٹزرلینڈ نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر طبی امداد پہنچانے والی پروازوں اور زخمیوں کی منتقلی کی پروازوں کو ہمیشہ اجازت دی ہے تاکہ بین الاقوامی سطح پر انسانی خدمات متاثر نہ ہوں اور ملک کے غیرجانبدارانہ موقف پر کوئی اثر نہ پڑے۔حالیہ فیصلے کے بعد سوئس حکام نے مزید واضح کیا کہ مستقبل میں بھی کسی فوجی کارروائی یا جنگ سے متعلق پروازوں کو فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جبکہ امدادی اور غیر جنگی پروازوں کے لیے کھلا راستہ برقرار رکھا جائے گا۔یہ اقدام سوئٹزرلینڈ کی خارجہ پالیسی میں غیرجانبداری کو مضبوط کرنے اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کو یقینی بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔