اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) ایک نئی وار گیمز تحقیق میں یہ چونکا دینے والا انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے چلنے والے بوٹس
انسانوں کے مقابلے میں جوہری ہتھیار استعمال کرنے کا زیادہ رجحان رکھتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق مختلف جنگی منظرناموں میں اے آئی ماڈلز نے بارہا ایسے فیصلے کیے جو عالمی سطح پر تباہ کن نتائج کا سبب بن سکتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق 21 مختلف جنگی صورتِ حال میں کیے گئے تجربات میں اے آئی بوٹس نے 95 فیصد کیسز میں کم از کم ایک مرتبہ نیوکلیئر ہتھیار استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ حیران کن طور پر کسی بھی ماڈل نے کسی بھی مرحلے پر ہتھیار ڈالنے کا انتخاب نہیں کیا، حتیٰ کہ جب انہیں واضح شکست کا سامنا تھا۔
محققین کے مطابق اے آئی ماڈلز نے جنگی کشیدگی میں کمی کو اپنی ساکھ کے لیے نقصان دہ سمجھا اور طاقت کے اظہار کو ترجیح دی۔ اس طرزِ عمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ مشین لرننگ ماڈلز اسٹریٹیجک صبر یا انسانی ہمدردی جیسے عوامل کو خاطر میں نہیں لاتے۔
اس تحقیق کی قیادت کنگ کالج لندن سے وابستہ پروفیسر Kenneth Payne نے کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اے آئی ماڈلز نے بعض اوقات غیر معمولی اور غیر متوقع استدلال کا مظاہرہ کیا، حتیٰ کہ کچھ صورتوں میں دھوکا دینے کی صلاحیت بھی دکھائی۔انہوں نے مزید کہا کہ انسان عام طور پر روایتی جنگ اور جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے درمیان ایک واضح حد کو برقرار رکھنے کی کوشش کرتے ہیں، تاہم تمام تجرباتی اے آئی ماڈلز اس حد کو عبور کرنے کے لیے زیادہ آمادہ نظر آئے۔
ماہرین کے مطابق یہ نتائج عالمی سلامتی کے لیے سنگین سوالات اٹھاتے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب دنیا بھر کی افواج دفاعی اور اسٹریٹیجک نظاموں میں مصنوعی ذہانت کا استعمال بڑھا رہی ہیں۔ اگر خودکار نظاموں کو فیصلہ سازی میں زیادہ اختیار دیا گیا تو غیر متوقع اور تباہ کن نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس تحقیق کے بعد ضروری ہو گیا ہے کہ اے آئی کے عسکری استعمال کے حوالے سے عالمی سطح پر واضح ضوابط، اخلاقی فریم ورک اور انسانی نگرانی کو یقینی بنایا جائے تاکہ مستقبل میں کسی ممکنہ بحران سے بچا جا سکے۔