اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)ایک نئے سروے کے مطابق مینیٹوبا کے اسکولوں میں اساتذہ کے خلاف تشدد اور ہراسانی کے واقعات میں اضافہ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ یہ سروے مینیٹوبا کی ایک معلمہ اور محقق نے کیا ہے۔استاد اور محقق جولی براکسمہ نے کہایقیناً سب سے بڑا پیغام یہی ہے کہ یہ ہمارے اسکولوں میں ہو رہا ہے، تشدد اور ہراسانی واقعی موجود ہے۔”
یہ سروے براکسمہ کے پی ایچ ڈی مقالے کا حصہ تھا، جس میں 2023–2024 کے تعلیمی سال کے دوران 22 سرکاری اسکول ڈویژنز سے تعلق رکھنے والے 191 اساتذہ کی آرا شامل کی گئیں۔ نتائج کے مطابق، 54 فیصد اساتذہ نے بتایا کہ انہیں تعلیمی سال کے دوران کم از کم ایک مرتبہ جسمانی تشدد کی دھمکی دی گئی یا وہ اس کا شکار ہوئے، جبکہ 15 فیصد نے کہا کہ دس ماہ کے عرصے میں انہیں 20 سے زائد پرتشدد واقعات کا سامنا کرنا پڑا۔
براکسمہ جو 2011 سے مینیٹوبا میں باقاعدہ سند یافتہ استاد ہیں، کا کہنا ہے کہ اس تحقیق کا مقصد کینیڈا میں اسکولوں میں تشدد سے متعلق عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا کی کمی کو پورا کرنا ہے۔
انہوں نے کہامزید تحقیق سے یہ بات سامنے آئی کہ کینیڈا میں اس موضوع پر بہت کم مواد دستیاب ہے۔ مجھے اونٹاریو اور برٹش کولمبیا میں کچھ تحقیق ملی، لیکن باقی زیادہ تر تحقیق مقامی یا صوبائی یونینز کے اندر ہی محدود رہی اور خاموشی سے محفوظ رکھی گئی۔ بہت کم چیزیں شائع ہوئیں، اس لیے یہ تحقیق شائع کرنے کا ایک موقع تھا۔”
سروے کے مطابق، اساتذہ کی ذہنی اور جسمانی صحت پر اس مسئلے کے اثرات بھی نمایاں ہیں۔ متاثرہ اساتذہ میں سے ایک تہائی نے صحت یابی کے لیے چھٹیاں لیں، جبکہ نصف سے زیادہ نے درمیانے سے شدید درجے کی ذہنی تھکن (برن آؤٹ) کا سامنا کرنے کی اطلاع دی۔براکسمہ نے کہا کہ یہ مسئلہ کسی ایک اسکول یا ڈویژن تک محدود نہیں ہے۔
انہوں نے بتایامیں سسکیچیوان اور مینیٹوبا میں مختلف اسکول ڈویژنز میں کام کر چکی ہوں، اس لیے میں یہ نہیں کہہ سکتی کہ یہ کسی ایک اسکول تک محدود ہے۔ میرے ساتھ بھی مختلف جگہوں پر مار پیٹ، لاتیں، کاٹنے اور تھوکنے جیسے واقعات پیش آئے ہیں۔ مجھے پسلیوں پر چوٹیں، نیل اور خراشیں آئیں، اور میں نے یہی کچھ دیگر عملے کے ساتھ بھی ہوتے دیکھا ہے، چاہے وہ اساتذہ ہوں یا تعلیمی معاونین۔
سروے کے نتائج کے مطابق، اساتذہ کے خلاف دھمکیاں دینے یا تشدد کرنے میں زیادہ تر طلبہ ملوث پائے گئے، جبکہ ہراسانی کے زیادہ تر واقعات والدین کی جانب سے سامنے آئے، جن میں زبانی بدسلوکی اور دھمکی آمیز ای میلز شامل تھیں۔
براکسمہ اساتذہ کو ترغیب دے رہی ہیں کہ وہ اسکول ڈویژن کی پالیسیوں کے مطابق تمام واقعات کی رپورٹ ضرور کریں، اور اس مسئلے کو مجموعی (سسٹمک) سطح پر حل کرنے کی ضرورت پر زور دیتی ہیں۔
انہوں نے کہامیرا اصل مقصد یہ پیغام دینا ہے کہ یہ ہمارے اسکولوں میں ہو رہا ہے اور ہمیں اسے ایک مجموعی مسئلہ سمجھ کر اس پر کام شروع کرنا ہوگا۔ کیا یہ راتوں رات حل ہو جائے گا؟ نہیں۔ لیکن میں چاہتی ہوں کہ اس پر بات چیت شروع ہو، تاکہ تشدد یا ہراسانی کی رپورٹ کرنے والے عملے کو نظرانداز نہ کیا جائے اور نہ ہی ان پر الزام لگایا جائے۔ یہ تحقیق اس بات کی تصدیق ہے کہ ہاں، یہ مینیٹوبا کے اسکولوں میں ہو رہا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ آگے کیا؟ ہمیں دیکھنا ہوگا کہ یہ کیوں ہو رہا ہے اور ہم اس کے بارے میں کیا کر سکتے ہیں۔