اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)ایڈمنٹن سے روانہ ہونے والی ویسٹ جیٹ کی ایک پرواز میں بنائی گئی وائرل ویڈیو نے کینیڈا بھر میں ایئرلائن نشستوں، مسافروں کے آرام اور جہازوں میں مزید نشستیں شامل کرنے کے رجحان پر شدید بحث چھیڑ دی ہے۔ یہ ویڈیو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر دس لاکھ سے زائد بار دیکھی جا چکی ہے اور اس میں ایک شخص کو سامنے والی نشست کے پیچھے اپنی ٹانگیں فِٹ کرنے میں شدید مشکل کا سامنا کرتے دکھایا گیا ہے۔ ویڈیو میں اس کے گھٹنے واضح طور پر سامنے والی سیٹ سے ٹکرائے ہوئے نظر آتے ہیں، جس کے باعث حرکت کی تقریباً کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔
کلپ میں ایک خاتون کی آواز سنائی دیتی ہے جو کہتی ہیں:“ڈیڈ، کیا آپ اپنی ٹانگیں سیدھی کر سکتے ہیں؟”یہ جملہ ہی اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ مسافر کس حد تک محدود جگہ میں سفر کرنے پر مجبور ہیں۔
اس ویڈیو کے بعد مسافروں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ کئی افراد نے آن لائن تبصروں میں کہا ہے کہ ہوائی سفر دن بہ دن زیادہ تنگ اور ناقابلِ برداشت ہوتا جا رہا ہے۔ بعض صارفین نے ویسٹ جیٹ کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا، جبکہ دیگر نے پوری ایئرلائن انڈسٹری کو تنقید کا نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ مسافروں کے آرام کی قیمت پر منافع بڑھایا جا رہا ہے۔
ایئر پیسنجر رائٹس کے بانی گیبور لوکاچ کے مطابق یہ ویڈیو کینیڈا میں ریگولیٹری خلا کو بے نقاب کرتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے کینیڈا میں پروازوں پر ٹانگوں کے لیے کم از کم جگہ کے حوالے سے کوئی واضح قانون موجود نہیں۔ تاہم، ایئرلائنز پر یہ ذمہ داری ضرور عائد ہوتی ہے کہ وہ مسافروں کو اتنی جگہ فراہم کریں کہ وہ نشست پر مناسب انداز میں بیٹھ سکیں۔
ویسٹ جیٹ نے تسلیم کیا ہے کہ اس کی معیاری نشستوں میں ٹانگوں کی جگہ سب سے کم ہے، جبکہ زیادہ کشادہ نشستیں اضافی قیمت پر دستیاب ہیں۔ ایئرلائن نے حال ہی میں اپنے بوئنگ 737 طیاروں کے کچھ حصوں میں تبدیلی کرتے ہوئے ایک اضافی قطار شامل کی ہے اور زیادہ پتلی نشستوں کا استعمال کیا ہے تاکہ مسافروں کی گنجائش بڑھائی جا سکے۔
لوکاچ کا مؤقف ہے کہ اگرچہ ایئرلائنز کو اپنے کیبن ڈیزائن کرنے کی آزادی حاصل ہے، لیکن نشست اتنی بڑی ضرور ہونی چاہیے کہ مسافر اس میں بیٹھ سکیں۔ ان کے مطابق اگر کسی ایئرلائن کو معلوم ہو کہ نشست بہت چھوٹی ہے اور پھر بھی وہ اسے فروخت کرے تو یہ دھوکہ دہی کے زمرے میں آ سکتا ہے۔
مسافروں کے حقوق کے حامیوں کا کہنا ہے کہ وفاقی سطح پر کم از کم سیٹ پچ یا ٹانگوں کی جگہ کے معیارات نہ ہونے کے باعث مسافروں کے پاس شکایت کے محدود ذرائع ہیں۔ ان کے مطابق اصل ذمہ داری قانون سازوں پر عائد ہوتی ہے، اور عوام کو چاہیے کہ وہ اپنے وفاقی اراکینِ پارلیمنٹ سے براہِ راست رابطہ کریں۔
ویسٹ جیٹ کے جاری کردہ بیان کے مطابق مذکورہ طیاروں میں نشستوں کے درمیان فاصلہ 28 سے 38 انچ کے درمیان رکھا گیا ہے اور اس ترتیب کے حامل 21 طیارے اس وقت سروس میں ہیں۔ ایئرلائن کا کہنا ہے کہ وہ مسافروں اور عملے کی رائے کا مسلسل جائزہ لے رہی ہے تاکہ آرام، کارکردگی اور حفاظت کے درمیان توازن برقرار رکھا جا سکے۔