اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) بیرونِ ملک رہنے والے کینیڈین شہریوں کی جانب سے ووٹنگ کے موجودہ نظام پر عدم اطمینان میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے
جس کے باعث انتخابی اصلاحات کے مطالبات زور پکڑ رہے ہیں۔ تازہ اطلاعات کے مطابق لاکھوں اہل ووٹرز کے باوجود بیرونِ ملک ووٹنگ میں شرکت انتہائی کم ہے، جسے جمہوری عمل کے لیے ایک اہم مسئلہ قرار دیا جا رہا ہے۔اوٹاوا سے موصولہ رپورٹس کے مطابق تقریباً 50 لاکھ کینیڈین شہری دنیا کے مختلف ممالک میں مقیم ہیں، جن میں سے لگ بھگ 35 لاکھ افراد ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں۔ تاہم ان میں سے بہت کم تعداد عملی طور پر انتخابات میں حصہ لے پاتی ہے۔
اس حوالے سے "ووٹز ابروڈ” (Votes Abroad) کے ڈائریکٹر ٹموتھی وائل نے کہا کہ بیرونِ ملک ووٹرز کو کئی عملی مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ نظام زیادہ تر ڈاک کے ذریعے ووٹنگ پر انحصار کرتا ہے، جس میں وقت کی کمی، بیلٹ پیپر کی تاخیر سے ترسیل، اور بعض اوقات غیر یقینی صورتحال جیسے مسائل شامل ہیں۔ یہی وجوہات ووٹرز کی کم شرکت کا باعث بن رہی ہیں۔
جرمنی میں مقیم کینیڈین شہری ڈینیئل شوکا نے بھی اس مسئلے پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو بیرونِ ملک ووٹرز کو متحرک کرنے اور ان کی شمولیت بڑھانے کے لیے مزید اقدامات کرنے چاہئیں۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں بہت سے ووٹرز خود کو انتخابی عمل سے کٹا ہوا محسوس کرتے ہیں۔
بیرونِ ملک ووٹرز اور ماہرین نے حکومت اور متعلقہ ادارے "الیکشنز کینیڈا” سے مطالبہ کیا ہے کہ ووٹنگ کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے۔ مجوزہ اصلاحات میں سفارت خانوں اور قونصل خانوں میں براہِ راست ووٹنگ کی سہولت فراہم کرنا، اور آن لائن ووٹنگ سسٹم متعارف کروانا شامل ہیں۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ان اصلاحات کو عملی جامہ پہنایا جاتا ہے تو اس سے نہ صرف بیرونِ ملک کینیڈین شہریوں کی انتخابی عمل میں شمولیت بڑھے گی بلکہ جمہوری نظام بھی مزید مضبوط ہوگا۔حکام کی جانب سے تاحال ان تجاویز پر کوئی حتمی اعلان سامنے نہیں آیا، تاہم بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیشِ نظر امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آنے والے وقت میں اس حوالے سے پیش رفت ہو سکتی ہے۔