اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ دنیا میں صرف ایک ہی ملک ایسا ہے جس سے چین اور روس دونوں خوف محسوس کرتے ہیں
اور وہ امریکا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر امریکا نیٹو کا حصہ نہ ہوتا تو روس اور چین کو اس دفاعی اتحاد سے کوئی خطرہ محسوس نہ ہوتا، کیونکہ نیٹو کی اصل قوت امریکا کی موجودگی سے ہی قائم ہے۔سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا کے بغیر نیٹو محض ایک کمزور اتحاد بن کر رہ جاتا ہے۔ ان کے بقول، امریکا وہ واحد ملک ہے جس کا چین اور روس نہ صرف احترام کرتے ہیں بلکہ اس کی طاقت سے خائف بھی ہیں، اور یہ طاقت ان کی قیادت میں دوبارہ مضبوط ہونے والے امریکا کا نتیجہ ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے پیغام میں عالمی تنازعات کے حوالے سے بھی بات کی اور دعویٰ کیا کہ انہوں نے آٹھ بڑی جنگوں کے خاتمے میں کردار ادا کیا، جس کے باعث لاکھوں انسانی جانیں بچیں۔ انہوں نے اس بات کا ذکر بھی کیا کہ ناروے، جو نیٹو کا رکن ملک ہے، نے انہیں نوبیل امن انعام کے لیے نامزد نہیں کیا، تاہم ان کے مطابق اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ اصل کامیابی جنگوں کا خاتمہ ہے نہ کہ اعزازات کا حصول۔
انہوں نے نیٹو کے رکن ممالک پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے اقتدار میں آنے سے قبل اتحاد کے بیشتر ممالک اپنی دفاعی اخراجات کی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہے تھے۔ ٹرمپ کے مطابق انہوں نے نیٹو ممالک کو مجبور کیا کہ وہ اپنی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا کم از کم پانچ فیصد دفاع پر خرچ کریں، جس کے بعد اب رکن ممالک فوری طور پر ادائیگیاں کر رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اس خدشے کا اظہار بھی کیا کہ اگر امریکا کو کبھی ضرورت پڑی تو شاید نیٹو ممالک اس کے لیے اسی طرح کھڑے نہ ہوں، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس کے باوجود امریکا ہمیشہ نیٹو کے ساتھ کھڑا رہے گا، چاہے اتحاد امریکا کے لیے موجود ہو یا نہ ہو۔یوکرین کی جنگ سے متعلق بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ اگر انہوں نے بروقت مداخلت نہ کی ہوتی تو روس اس وقت تک پورے یوکرین پر قبضہ کر چکا ہوتا۔ ان کے مطابق ان کی پالیسیوں نے نہ صرف روسی پیش قدمی کو روکا بلکہ یورپ میں ایک بڑی جنگ کے امکانات کو بھی کم کیا۔