اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) پاکستان کی معیشت ایک نازک مگر پُر امید موڑ پر کھڑی ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ایک اہم فیصلے میں پالیسی ریٹ (شرحِ سود) کو 11 فیصد پر برقرا رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ فیصلہ بظاہر ایک عددی اشارہ لگتا ہے، لیکن درحقیقت یہ ملکی معیشت کی سمت اور رفتار کا آئینہ ہے۔
شرحِ سود کیا ہے؟
سادہ الفاظ میں شرحِ سود وہ قیمت ہے جو پیسے کے استعمال پر ادا کی جاتی ہے ،اگر آپ بینک سے قرض لیتے ہیں تو وہ جو اضافی رقم واپس لیتا ہے، وہی سود ہے۔اور اگر آپ بینک میں رقم جمع کراتے ہیں تو وہی سود آپ کو ملتا ہے۔مرکزی بینک (اسٹیٹ بینک) وقتاً فوقتاً اس شرح میں تبدیلی کرتا ہے — تاکہ مہنگائی، سرمایہ کاری، اور مالیاتی استحکام کے درمیان توازن برقرار رکھا جا سکے۔
شرحِ سود بڑھانے کے اثرات
شرحِ سود میں اضافہ بظاہر سخت فیصلہ ہوتا ہے، لیکن کئی با مہنگائی پر قابو پانے کے لیے ناگزیر ہوتا ہے۔ جب شرحِ سود بڑھتی ہے تو قرض لینا مہنگا ہو جاتا ہے، جس سے لوگ اور کمپنیاں کم خرچ اور کم سرمایہ کاری کرتی ہیں۔* نتیجتاً طلب (demand) کم ہوتی ہے اور مہنگائی قابو میں آتی ہے۔* تاہم، اس کے ساتھ معاشی رفتار بھی سست پڑ سکتی ہے، جس سے روزگار کے مواقع اور صنعتی سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں۔
شرحِ سود کم کرنے کے اثرات
دوسری جانب، جب شرحِ سود کم کی جاتی ہے تو قرض سستا ہو جاتا ہے، کاروبار پھیلنے لگتے ہیں، اور سرمایہ کاری میں اضا فہ ہوتا ہے۔
حکومتیں یہ قدم اس وقت اٹھاتی ہیں جب معیشت میں سُستی یا بے روزگاری کا دباؤ بڑھ رہا ہو۔ * لیکن اگر شرح بہت زیادہ کم رکھی جائے تو **مہنگائی دوبارہ بڑھ سکتی ہے** کیونکہ بازار میں پیسے کی گردش زیادہ ہو جاتی ہے۔
پاکستان میں 11 فیصد شرحِ سود کیوں برقرار؟
اسٹیٹ بینک نے حالیہ مانیٹری پالیسی میں بتایا کہ مہنگائی 5.6 فیصد تک بڑھ چکی ہے جبکہ **قوزی (core) مہنگائی 7.3 فیصد پر ہے۔تاہم جی ڈی پی میں بہتری، زرِمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ (14.5 ارب ڈالر اور طآئی ایم ایف معاہدے سے مالی استحکام کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔مرکزی بینک کا ماننا ہے کہ اس وقت شرحِ سود میں تبدیلی کی ضرورت نہیں کیونکہ موجودہ سطح پر یہ مہنگائی کو قابو میں رکھنے اور ترقی کو سہارا دینے کے لیے متوازن ہے۔
شرحِ سود دراصل معیشت کی نبض ہے۔
اگر اسے بہت زیادہ بڑھا دیا جائے تو **دل کی دھڑکن (سرمایہ کاری)** کم ہو جاتی ہے۔اور اگر بہت کم کر دیا جائے تو بخار (مہنگائی بڑھنے لگتا ہے۔لہٰذا، اسٹیٹ بینک کا موجودہ فیصلہ ایک محتاط توازن کی علامت ہے — جس کا مقصد ہے > “مہنگائی پر قابو بھی، اور ترقی کا تسلسل بھی۔”