بھارت میں پھیلنے والا نپا وائرس کیا ہے ، یہ کیسے پھیلتا ہے ؟

اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز )  بھارت کی مشرقی ریاست مغربی بنگال میں نِپاہ وائرس کے پھیلاؤ نے عالمی سطح پر تشویش کو بڑھا دیا ہے۔

اس حوالے سے چین، جنوبی کوریا، جاپان اور جنوب مشرقی ایشیا کے دیگر ممالک نے اپنی سرحدوں پر، خاص طور پر ہوائی اڈوں پر صحت کی جانچ پڑتال مزید سخت کر دی ہے تاکہ ممکنہ انفیکشن کو روکا جا سکے۔
نِپاہ وائرس کیا ہے؟
نِپاہ وائرس ایک زونوٹک وائرس ہے، یعنی یہ جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہو سکتا ہے۔ یہ ہینڈرا وائرس کی طرح ہینیپا وائرسز کے گروہ سے تعلق رکھتا ہے۔ اس وائرس کا پہلا بڑا پھیلاؤ 1998 میں ملائیشیامیں رپورٹ ہوا تھا، جس کے دوران متاثرہ خنزیر اور چمگادڑ انسانوں میں وائرس منتقل کرنے کے اہم ذرائع بنے۔نِپاہ وائرس انسانی جسم میں داخل ہونے کے بعد شدید بیماری پیدا کر سکتا ہے، جس میں **دماغ اور سانس کی بیماریوں** کے علامات شامل ہو سکتی ہیں۔ یہ وائرس **فوری علاج نہ ہونے پر مہلک ثابت ہو سکتا ہے۔
نِپاہ وائرس تین اہم طریقوں سے انسانوں میں منتقل ہو سکتا ہے:
1. جانوروں کے ذریعے
یہ وائرس بنیادی طور پر چمگادڑوںکے ذریعے پھیلتا ہے۔ متاثرہ چمگادڑ کا پیشاب، تھوک یا فضلہ اگر کھانے یا پانی کے وسائل سے مل جائے تو انسانی انفیکشن کا سبب بن سکتا ہے۔ ملائیشیا میں ابتدائی وباء کے دوران یہ وائرس متاثرہ خنزیر کے ذریعے بھی انسانوں میں منتقل ہوا تھا۔
2. آلودہ خوراک کے ذریعے
یہ وائرس خوراک کے ذریعے بھی منتقل ہو سکتا ہے، خاص طور پر کھجور کے درخت کے رس یا جوس کے استعمال سے۔ اگر یہ رس متاثرہ چمگادڑ کے جسم سے خارج ہونے والے مادے سے آلودہ ہو جائے تو انفیکشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مقامی حکام خوراک کی حفظان صحت اور پھلوں کی صفائی کے حوالے سے لوگوں کو سخت ہدایات جاری کرتے ہیں۔
3. انسان سے انسان میں منتقلی
انسانوں کے درمیان وائرس کا پھیلاؤ بھی ممکن ہے، لیکن یہ کم عام ہے۔ زیادہ تر کیسز قریبی جسمانی رابطے کے دوران سامنے آئے ہیں، مثلاً بیمار شخص کی تیمارداری کرتے وقت یا گھروں اور اسپتالوں میں مریض کے جسمانی اخراجات کے ذریعے۔ اس قسم کی منتقلی کم تو ہے لیکن انتہائی محتاط رہنے کی ضرورت ہے، خصوصاً صحت کے کارکنوں کے لیے۔
عالمی سطح پر خطرات اور حفاظتی اقدامات
نِپاہ وائرس کے پھیلاؤ نے عالمی سطح پر ایمرجنسی الرٹس  جاری کر دیے ہیں۔ کئی ممالک نے ہوائی اڈوں پر مسافروں کی طبی جانچ سخت کر دی ہے
متاثرہ علاقوں سے آنے والے مسافروں کی قرنطینہ یا نگرانی شروع کی ہے، عوام کو آلودہ خوراک اور جانوروں سے محتاط رہنے کی ہدایات دی ہیں،ڈبلیو ایچ او اور دیگر عالمی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ نِپاہ وائرس کا وبائی خطرہ اگر بروقت کنٹرول نہ کیا گیا تو یہ عالمی پھیلاؤ پیدا کر سکتا ہے۔
بھارت میں صورتحال
مغربی بنگال میں حکام نے متاثرہ علاقوں میں اضافی طبی ٹیمیں تعینات کر دی ہیں اور لوگوں کو شخصی حفظان صحت، خاص طور پر ہاتھ دھونے اور محفوظ خوراک کے استعمال کے حوالے سے آگاہی دی جا رہی ہے۔ مقامی اسپتالوں میں مریضوں کے لیے  آئسولیشن وارڈز قائم کیے گئے ہیں تاکہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔ماہرین صحت کے مطابق، نِپاہ وائرس کا پھیلاؤ اگرچہ محدود ہے، مگر یہ انتہائی مہلک اور تیز رفتار انفیکشن پیدا کر سکتا ہے۔ اس لیے فوری اقدامات، عوامی آگاہی اور  بین الاقوامی تعاون ناگزیر ہیں۔

 

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں