رپورٹ کے مطابق تازہ ترین اعداد و شمار کے جائزے سے پتہ چلتا ہے کہ 40 ہزار مرد اور خواتین ووٹرز کے درمیان کل فرق کا 99 فیصد پنجاب میں یہ فرق 50 لاکھ سے زیادہ ہے, اس کے بعد سندھ میں 22 لاکھ 40 ہزار، خیبرپختونخوا میں 19 لاکھ 60 ہزار اور بلوچستان میں 6 لاکھ 60 ہزار ہیں.
پنجاب میں رجسٹرڈ ووٹرز کی کل تعداد 73.2 ملین ہے،
سندھ میں 2.7 ملین رجسٹرڈ ووٹرز ہیں خیبرپختونخوا میں کل 2.18 ملین رجسٹرڈ ووٹرز ہیں
بلوچستان میں ووٹرز کی کل تعداد 53 لاکھ 70 ہزار ہے جو کہ پنجاب میں مرد اور خواتین ووٹرز کے فرق سے قدرے زیادہ ہے,
اسلام آباد میں 10 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز ہیں
2007-08 کے عام انتخابات کے وقت مرد اور خواتین ووٹرز کا فرق 9.7 ملین تھا، 2013 میں یہ بڑھ کر 1.1 ملین ہو گیا, اور 2015 میں انتخابی فہرستوں پر نظر ثانی کے بعد یہ فرق بڑھ کر 1.16 ملین ہو گیا.
2016 میں انتخابی فہرستوں پر نظر ثانی کے بعد یہ فرق بڑھ کر 1 کروڑ 31 لاکھ ہو گیا، 2018 میں عام انتخابات کے وقت یہ فرق 1 کروڑ 24 لاکھ تھا, یہ فرق جولائی 2020 میں 1 کروڑ 27 لاکھ سے زیادہ تھا لیکن اسی سال اکتوبر میں میں کم ہو کر 1 کروڑ 24 لاکھ رہ گیا, نومبر 2021 میں یہ فرق 1 کروڑ 18 لاکھ ہو گیا.
مئی 2022 میں الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے ووٹرز کے اعداد و شمار کے مطابق مرد اور خواتین ووٹرز کا فرق 1 کروڑ 13 لاکھ تھا.
اس سال جون میں انتخابی فہرستوں پر نظر ثانی کی گئی تھی، جس سے ووٹرز کی کل تعداد 12.4 ملین سے کم ہو کر 12 کروڑ ہو گئی تھی، جب یہ انکشاف ہوا تھا کہ فہرستوں میں کم از کم 4 ملین رجسٹرڈ ووٹر مر چکے ہیں.