ارد ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) نیند انسانی صحت کے لیے اتنی ہی ضروری ہے جتنی خوراک اور پانی، مگر جدید طرزِ زندگی میں نیند کی کمی ایک معمول بنتی جا رہی ہے۔ اب سائنسدانوں نے انکشاف کیا ہے کہ نیند پوری نہ ہونے کی صورت میں دماغ محض تھکن محسوس نہیں کرتا بلکہ اس کے اندر ایک غیر معمولی حیاتیاتی عمل شروع ہو جاتا ہے جو انسان کی توجہ، سوچ اور ردعمل کو براہِ راست متاثر کرتا ہے۔
نئی سائنسی تحقیق کے مطابق ناقص یا کم نیند کے بعد توجہ مرکوز رکھنے میں دشواری، فیصلے کرنے میں تاخیر اور ذہنی دھند (Brain Fog) دراصل دماغ کے اندر جاری ایک مخصوص نظامی تبدیلی کا نتیجہ ہیں۔ یہ تحقیق امریکا کے معروف ادارے میساچیوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (MIT) کے سائنسدانوں نے کی ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ جب انسان پوری نیند نہیں لیتا تو دماغ میں موجود ایک خاص سیال (fluid system) کی حرکت غیر معمولی طور پر بڑھ جاتی ہے۔ یہ سیال عام حالات میں دماغ سے فاضل مادے خارج کرنے میں مدد دیتا ہے، مگر نیند کی کمی کے دوران اس کی بے ترتیب حرکت دماغی خلیات کے درمیان رابطے کو متاثر کرتی ہے۔
سائنسدانوں کے مطابق یہی وہ لمحے ہوتے ہیں جب انسان بیدار تو ہوتا ہے مگر اس کا دماغ مکمل طور پر متحرک نہیں رہتا۔ ان لمحات میں دماغ توجہ برقرار رکھنے سے قاصر رہتا ہے، جس کے نتیجے میں سست ردعمل، یادداشت میں کمزوری اور فیصلہ سازی میں غلطیوں کا امکان بڑھ جاتا ہے۔
تحقیق میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ نیند کی کمی کے باعث دماغ کچھ لمحوں کے لیے ’’مائیکرو سلیپ‘‘ جیسی کیفیت میں چلا جاتا ہے، یعنی انسان جاگتے ہوئے بھی مختصر وقفوں کے لیے ذہنی طور پر غیر حاضر ہو جاتا ہے۔ یہی کیفیت ڈرائیونگ، مشینری کے استعمال اور اہم فیصلوں کے دوران خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ مسلسل نیند کی کمی دماغی صحت پر طویل المدتی اثرات ڈال سکتی ہے، جن میں ڈپریشن، یادداشت کی کمزوری، ذہنی دباؤ اور اعصابی بیماریوں کا خطرہ شامل ہے۔ تحقیق کے مطابق نیند کو نظرانداز کرنا دراصل دماغ کے قدرتی حفاظتی نظام کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔ سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ بہتر توجہ، تیز ردعمل اور صحت مند دماغ کے لیے **مکمل اور معیاری نیند ناگزیر** ہے، کیونکہ نیند ہی وہ وقت ہوتا ہے جب دماغ خود کو ری سیٹ اور مرمت کرتا ہے۔