کون سا پاسورڈ نسل نو کی پہچان بن گیا ؟ حیران کن انکشاف

اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) ٹیکنالوجی کے دور میں پلنے بڑھنے والی، اسمارٹ فون اور سوشل میڈیا کی دنیا میں جنم لینے والی  جین زی  کے بارے میں عمومی خیال یہی ہے کہ وہ ٹیکنالوجی کو خوب سمجھتی ہے۔ لیکن ایک تازہ تحقیق نے سب کو حیران کر دیا

ٹیکنالوجی کی سمجھ رکھنے کے باوجود نوجوان نسل پاسورڈ کے معاملے میں سب سے زیادہ لاپرواہ نکلی!سائبر سیکیورٹی کی عالمی سطح پر معروف کمپنی **نورڈ پاس** کی تحقیق نے اس غلط فہمی کو توڑ دیا کہ نئی نسل خود کو ڈیجیٹل طور پر محفوظ رکھ سکتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق
نوجوان نسل کا پسندیدہ پاسورڈ: “12345 واقعی؟
تحقیق میں یہ انکشاف ہوا کہ 1997 کے بعد پیدا ہونے والے لاکھوں نوجوانوں میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا پاسورڈ 12345 ہے۔مزید حیران کن بات یہ کہ اگر ان سے 7 ہندسوں کا پاسورڈ رکھنے کا کہا جائے تو جواب ہوتا ہے:
“1234567” یعنی گنتی کے اعداد ہی ان کے پاسورڈ بن جاتے ہیں!
کمزور یادداشت یا سہل پسندی؟
تحقیق کے مطابق نوجوان نسل اپنی کمزور یادداشت یا آسانی کی وجہ سے سادہ ترین اور انتہائی کمزور پاسورڈ رکھتی ہے۔ماہرین نے اسے سیکیورٹی کی دنیا کا سب سے بڑا خطرہ قرار دیا ہے۔
بزرگ نسل بھی یہی کرتی تھی — مگر…
دلچسپ بات یہ ہے کہ 1946–1964 کے درمیان پیدا ہونے والی عمر رسیدہ نسل بھی یہی پاسورڈ استعمال کرتی تھی،لیکن —اُس وقت “12345” کو محفوظ تصور کیا جاتا تھا کیونکہ ہیکنگ کے طریقے کم اور سادہ تھے۔آج کی انتہائی جدید سائبر دنیا میں ایسے پاسورڈ چند سیکنڈ میں توڑ دیے جاتے ہیں۔
دنیا بھر کا سروے نتائج حیران کن
امریکا، جاپان، جرمنی، فرانس اور برطانیہ کے **ہزاروں** نوجوانوں پر مشتمل سروے میں بھی یہی نتائج سامنے آئے کہ* سب سے زیادہ استعمال ہونے والے پاسورڈز 2025 میں بھی وہی ہیں جو ایک دہائی پہلے تھے:
،123456
12345678
123456789
Admin
* Pass@123
* AA@123456
* ایڈمین123
پھر بھی نوجوان محفوظ کیوں سمجھے جاتے ہیں؟یہ پہلو سب سے زیادہ حیران کن ہے:
اگرچہ نوجوان سب سے کمزور پاسورڈ استعمال کرتے ہیں،لیکن چونکہ ان کے اکاؤنٹس میں **پاس کیز، بائیومیٹرک (فنگرپرنٹ/فیس آئی ڈی) اور ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن جیسے جدید حفاظتی فیچرز فعال ہوتے ہیں ،اس لیے ان کے اکاؤنٹس ہیک ہونے کے امکانات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
تحقیق سے یہ حقیقت سامنے آئی کہ**ٹی وی ریموٹ تک نہ چلانے والی پرانی نسل کے مقابلے میں جین زی کا سب سے بڑا مسئلہ پاسورڈ سیکیورٹی ہے۔ ٹیکنالوجی میں مہارت، لیکن سیکیورٹی میں لاپرواہی یہ وہ تضاد ہے جو نوجوان نسل کو سب سے زیادہ خطرے میں بھی ڈال سکتا ہے اور سب سے زیادہ محفوظ بھی رکھ سکتا ہے۔

 

 

 

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں