اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) دنیا کے سب سے سرد اور پراسرار براعظم انٹارکٹیکا کے بارے میں ایک حیرت انگیز انکشاف سامنے آیا ہے۔
سائنس دانوں نے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے یہ معلوم کر لیا ہے کہ ہزاروں سال سے جمی برف کے نیچے ایک مکمل اور حیران کن زمینی دنیا موجود ہے، جس کی مثال ماضی میں کہیں نہیں ملتی۔انٹارکٹیکا کی موٹی برفانی تہیں ہمیشہ سے سائنس دانوں کے لیے ایک بڑی رکاوٹ رہی ہیں، کیونکہ یہی برف اس کی اصل زمینی ساخت کو نظروں سے اوجھل رکھتی ہے۔ تاہم اب جدید نقشہ سازی، سیٹلائیٹ ڈیٹا اور گلیشیئرز کی حرکت سے متعلق طبیعیاتی اصولوں کی مدد سے اس برفانی پردے کے پیچھے چھپے رازوں سے پردہ اٹھا دیا گیا ہے۔
برف کے نیچے ایک پوشیدہ دنیا
تحقیقی نتائج کے مطابق انٹارکٹیکا کی برف کے نیچے ہزاروں پہاڑی چوٹیاں، وسیع و عریض وادیاں اور گہری تنگ گھاٹیاں موجود ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ زمینی خدوخال کسی قدیم براعظم کی یاد دلاتے ہیں جو لاکھوں سال قبل برف سے پاک اور نسبتاً متحرک جغرافیائی خطہ تھا۔انکشافات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ بعض پہاڑی سلسلے اتنے وسیع اور بلند ہیں کہ اگر برف ہٹا دی جائے تو یہ دنیا کے بڑے پہاڑی نظاموں کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ اسی طرح کئی وادیاں ایسی ہیں جو گہرائی اور پھیلاؤ کے لحاظ سے حیران کن حد تک وسیع ہیں۔
موسمیاتی تحقیق میں نئی راہیں
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ دریافت نہ صرف جغرافیائی لحاظ سے اہم ہے بلکہ موسمیاتی تبدیلی کو سمجھنے میں بھی کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔ برف کے نیچے موجود یہ ساختیں اس بات پر اثر انداز ہوتی ہیں کہ گلیشیئرز کس رفتار سے سرکتے ہیں اور مستقبل میں سمندروں کی سطح میں کس حد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔ماہرین کے مطابق یہ تحقیق زمین کی تاریخ کو سمجھنے کے ساتھ ساتھ مستقبل کے ماحولیاتی خطرات کا اندازہ لگانے میں بھی مدد فراہم کرے گی۔
سائنسی دنیا میں جوش
اس دریافت کو سائنسی دنیا میں ایک سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ انٹارکٹیکا اب محض برف کا صحرا نہیں بلکہ ایک مکمل اور پیچیدہ زمینی نظام ہے، جس پر مزید تحقیق آنے والے برسوں میں کئی نئے انکشافات سامنے لا سکتی ہے۔