ارد و ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاؤس کے باہر نیشنل گارڈ کے اہلکاروں پر ہونے والا حملہ صرف ایک فائرنگ کا واقعہ نہیں بلکہ امریکہ کے دل میں سیکیورٹی کی گہری دراڑ کا اشارہ ہے۔
ایسے وقت میں جب سیاسی میدان پہلے ہی غیر معمولی تقسیم کا شکار ہے، دارالحکومت میں حساس ترین مقام کے قریب ہونے والی یہ کارروائی واشنگٹن کی سلامتی پر کئی سنگین سوالات چھوڑ گئی ہے۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے **500 اضافی فوجیوں کی فوری تعیناتی** بظاہر ایک مضبوط اور سخت فیصلہ دکھائی دیتا ہے۔ انہوں نے بغیر وقت ضائع کیے طاقتور ردعمل دیا، جو ایک صدر کی جانب سے قومی سلامتی کے معاملے پر سنجیدگی کی علامت ہے۔ مگر یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا واشنگٹن میں سیکیورٹی کی کمزوریاں واقعی اتنی بڑی تھیں کہ وائٹ ہاؤس کو مکمل لاک ڈاؤن** کرنا پڑا؟ یا یہ واقعہ ایک بڑی، منظم سازش کا ابتدائی اشارہ ہے؟
ایف بی آئی ڈائریکٹر کاش پٹیل کی بریفنگ نے صورتحال کی سنگینی میں مزید اضافہ کیا۔ یہ اعلان کہ حملہ آوروں نے ’’گھات لگا کر‘‘ حملہ کیا، اور یہ کہ وہ نیشنل گارڈ جیسے تربیت یافتہ اہلکاروں کو بھی نشانہ بنا سکے، ایک تکلیف دہ حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے — کہ واشنگٹن کی سیکورٹی، چاہے وہ کاغذ پر کتنی ہی مضبوط کیوں نہ ہو، زمین پر کمزوریاں رکھتی ہے۔