کینیڈا کے مسائل کا ذمہ دار کون؟ جے ڈی وینس کی الزام تراشی اور اصل معاشی تصویر

اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے حالیہ بیانات نے ایک بار پھر کینیڈا کے اندرونی معاملات کو امریکی سیاسی بیانیے کا موضوع بنا دیا ہے۔

وینس نے کینیڈا کی ’’امیگریشن انسینٹی‘‘ کو ملک میں گرتے ہوئے معیارِ زندگی کی بنیادی وجہ قرار دے دیا—لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ دعویٰ معاشی حقائق پر مبنی ہے، یا پھر یہ بیان امریکی انتخابی سیاست کی ضرورتوں سے جڑا ہوا ہے؟اعداد و شمار ضرور بتاتے ہیں کہ کینیڈا کی فی کس آمدنی گزشتہ برسوں میں دباؤ کا شکار ہوئی ہے۔ لیکن یہ کہنا کہ اس کا واحد ذمہ دار امیگریشن ہے، تجزیے کے بجائے ایک سیاسی فریم ورک ہے۔کینیڈا کی معیشت کی پیچیدگیاں — کم پیداواری نمو، بلند شرحِ سود، عالمی مہنگائی، اور COVID کے بعد مالیاتی پالیسیوں — سب اس معاشی تصویر کا حصہ ہیں۔ ان عوامل کو نظرانداز کرکے صرف امیگریشن پر انگلی اٹھانا تحقیق نہیں، بیانیہ ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ وہی گراف جو وینس نے شیئر کیا، اسے  پیر پولیئیور  نے بھی استعمال کیا، مگر بغیر امیگریشن کا ذکر کیے—یعنی کینیڈا کی اندرونی سیاست میں بھی اس ڈیٹا کا استعمال اپنے اپنے سیاسی مفاد کے مطابق کیا جا رہا ہے۔یہ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ کینیڈا نے گزشتہ دہائی میں امیگریشن کی بلند ترین سطح دیکھی۔ لیکن اسی امیگریشن نے مزدوری کی قلت پوری کی، معاشی سرگرمی پیدا کی، اور ایسے شعبوں کو سہارا دیا جو وبا کے بعد شدید دباؤ کا شکار تھے۔
امیگریشن کا فائدہ اور نقصان، دونوں ہوتے ہیں—مگر معاشی گراوٹ کو صرف ایک عنصر سے جوڑ دینا صورتحال کو حد سے زیادہ سادہ بنا دیتا ہے۔وزیراعظم مارک کارنی پہلے ہی امیگریشن کے حجم کو نسبتاً محدود کرنے کا اعلان کر چکے ہیں۔نہ صرف امیگریشن لیول فریز کرنے کی پالیسی سامنے آئی ہے بلکہ عارضی رہائشیوں میں 43 فیصد کمی کا ہدف بھی رکھا گیا ہے۔ یہ وہ اقدامات ہیں جو کینیڈا کی حکومت زمینی حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے اٹھا رہی ہے—نہ کہ سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے تحت۔جہاں تک وینس کے الزامات کا تعلق ہے، ان کے بیانات میں ایک اور پہلو بھی ہے،امریکی سیاست میں مہنگائی، ہاؤسنگ بحران اور اقتصادی عدم استحکام کو اکثر ’’امیگریشن‘‘ کے کھاتے میں ڈال دیا جاتا ہے، اور اس بیانیے کی بازگشت اب کینیڈا پر بھی ڈالی جا رہی ہے۔یہ طرزِ فکر نہ صرف معیشت کی پیچیدگیوں کو سادہ بناتا ہے بلکہ دو ملکوں کے تعلقات میں غیر ضروری تلخی بھی پیدا کرتا ہے۔کینیڈا اور امریکا دونوں کے معاشی مسائل حقیقی ہیں، مگر ان کا حل ایک دوسرے کو موردِ الزام ٹھہرانا نہیں، بلکہ اپنی اپنی معاشی اصلاحات، پیداواریے میں اضافہ اور متوازن پالیسی سازی ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں