اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے سابق اسٹار بیٹر اور کوچ گراہم تھارپ کی خودکشی کا معاملہ ایک بار پھر منظرِ عام پر آ گیا ہے
جب ان کی بیوہ امانڈا تھارپ نے جذباتی انداز میں انگلش کرکٹ بورڈ (ECB) کو ان کی موت کا ذمہ دار قرار دیا۔ امانڈا کے مطابق اگر بورڈ انہیں مشکل وقت میں ’’تھوڑا سا ساتھ‘‘ بھی دے دیتا، تو آج گراہم زندہ ہوتے اور اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ زندگی گزار رہے ہوتے۔
گراہم تھارپ نے گزشتہ برس اگست 2024 میں ریلوے ٹریک پر کود کر خودکشی کر لی تھی۔ وہ اس وقت 55 برس کے تھے۔ یہ اقدام انہوں نے اپنی معزولی کے تقریباً آڑھائی سال بعد کیا۔ تھارپ / 2021–22 کے ایشیز ٹور کے دوران ایک ویڈیو اسکینڈل کے بعد ECB کی جانب سے معطل کیے گئے تھے، جس کے بعد ان کی پیشہ ورانہ زندگی شدید متاثر ہوئی۔
متنازع ویڈیو میں تھارپ آسٹریلیا میں اختتامی ٹیسٹ کے بعد کھلاڑیوں اور کوچنگ اسٹاف کے ساتھ ہوٹل میں بیٹھے دکھائی دیتے ہیں، جہاں پولیس نے انہیں کووِڈ پابندیوں کی یاد دہانی کرائی۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ تھارپ پولیس کے احکامات کو ہلکے انداز میں لیتے ہیں، جسے بعد میں شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ اسی واقعے کو بنیاد بنا کر ECB نے سخت کارروائی کرتے ہوئے انہیں معاون کوچ کے عہدے سے ہٹا دیا۔
تھارپ کی بیوہ امانڈا نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ ’’گراہم اس واقعے پر بے حد پشیمان تھے۔ انہوں نے ٹیم، بورڈ اور ہر متعلقہ شخص سے معافی بھی مانگی تھی۔ لیکن اس کے باوجود انہیں تنہا چھوڑ دیا گیا۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ گراہم ذہنی دباؤ میں تھے، مگر ECB نے نہ مدد فراہم کی نہ کوئی بحالی کا منصوبہ پیش کیا۔
امانڈا نے جذباتی لہجے میں کہا**”اگر انہیں ذرا سی سپورٹ، ذرا سی انسانی ہمدردی، یا کم از کم بات کرنے کا پلیٹ فارم ہی مل جاتا تو آج وہ ہمارے درمیان زندہ ہوتے۔” تجزیہ کاروں کے مطابق تھارپ کا معاملہ پیشہ ورانہ کرکٹ میں بڑھتے ذہنی دباؤ اور ناکافی نفسیاتی سپورٹ کا اہم ثبوت ہے۔ برطانوی میڈیا میں یہ سوال ایک بار پھر اٹھایا جا رہا ہے کہ کھلاڑیوں اور کوچز کو مشکلات کے دوران کتنا معاون ماحول فراہم کیا جاتا ہے۔امانڈا تھارپ نے ECB سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے طرزِ عمل اور سپورٹ سسٹم پر نظرثانی کرے تاکہ مستقبل میں کوئی کھلاڑی یا کوچ ایسی تنہائی کا شکار نہ ہو۔