اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) خطۂ مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اس وقت سوگوار ہے جب حزب اللہ کے ممتاز عسکری کمانڈر ہيثم علی طباطبائی شہادت کے مرتبے پر فائز ہوئے۔
وہ نہ صرف لبنان کی مزاحمتی تحریک کے ایک مضبوط ستون تھے بلکہ خطے میں طاقت کے توازن کو سمجھنے اور بدلنے کی اہلیت رکھنے والے انتہائی مؤثر کمانڈروں میں شمار کیے جاتے تھے۔ ان کی شہادت نے یہ سوال ایک بار پھر زندہ کر دیا ہے کہ آخر خطے کے امن کو بار بار کیوں نشانہ بنایا جاتا ہے، اور عالمی طاقتیں اس آگ کو بھڑکنے سے روکنے میں کیوں ناکام دکھائی دیتی ہیں۔
وہ کون تھے؟ مزاحمتی صفوں کا مضبوط ترین چہرہ
ہیثم علی طباطبائی کی شناخت محض حزب اللہ کے ایک کمانڈر کی نہیں تھی، بلکہ وہ تنظیم کے عسکری ڈھانچے میں **انتہائی حساس اور اعلیٰ ذمہ داریوں** کے حامل تھے۔ وہ جنوبی لبنان اور شام کے محاذوں پر کئی اہم کارروائیوں کے نگران رہے۔ تربیت، حکمتِ عملی، اور میدانِ جنگ کی گہری سمجھ انہیں حزب اللہ کی قیادت میں ایک خصوصی مقام دلا چکی تھی۔
ان کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو یہ تھا کہ وہ محاذ پر صرف قائد نہیں بلکہ *فرنٹ لائن فائٹر* بھی تھے—وہ کمانڈ روم سے زیادہ میدانِ عمل میں نظر آتے تھے۔ یہی خصوصیت انہیں اپنے ساتھیوں میں محبوب اور دشمنوں کے لیے خطرہ بناتی تھی۔
وہ کب اور کیسے شہید ہوئے؟
گزشتہ روز بیروت کے ایک رہائشی علاقے پر اسرائیلی فضائی حملے میں جس عمارت کو نشانہ بنایا گیا، وہیں ہیثم علی طباطبائی موجود تھے۔ اسی حملے میں وہ شہید ہوئے ، جبکہ مجموعی طور پر 5 افراد جاں بحق اور 28 زخمی ہوئے۔ اس حملے کو خطے کے سیاسی تجزیہ کار ’’نشانہ بنا کر کی جانے والی کارروائی‘‘ قرار دے رہے ہیں، جس کا مقصد واضح طور پر حزب اللہ کے عسکری ڈھانچے کو کمزور کرنا تھا۔
شہادت کے بعد عوامی ردعمل — ایک تاریخ ساز الوداع
ان کی نمازِ جنازہ بیروت میں ادا کی گئی جہاں ہزاروں افراد کا سمندر امڈ آیا ۔ اس اجتماع نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ مزاحمتی تحریکوں کے قائدین کو ختم کرنا آسان ضرور ہے، مگر ان کے نظریات کو دفن کرنا ناممکن۔ عوام کا یہ ٹھاٹھیں مارتا ہجوم اس حقیقت کا مظہر تھا کہ حزب اللہ کے لیے ہيثم طباطبائی جیسے کمانڈر صرف عسکری حیثیت نہیں رکھتے، وہ ایک *عقیدہ*، ایک *عزم* اور ایک *تحریک* کی علامت ہیں۔
ایران کا ردعمل اور عالمی سیاست کی بے حسی
ایرانی وزارتِ خارجہ نے ان کی شہادت کو ’’منظم ریاستی دہشت گردی‘‘ قرار دیتے ہوئے اسرائیل کو عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ کہا ہے۔ ایران نے سخت موقف اپناتے ہوئے اعلان کیا کہ جو ممالک جنگ بندی کے ضامن تھے، وہ اس صورتحال کے براہ راست ذمہ دار ہیں۔لیکن سوال وہیں کھڑا ہے۔ کیا عالمی برادری اس بار بھی صرف تشویش کے بیانات پر اکتفا کرے گی؟
کیا آنے والے دن مزید خطرناک ہیں؟
ذرائع کے مطابق حزب اللہ نے اسرائیلی اقدام کا جواب دینے کے لیے مشاورت شروع کر دی ہے، جبکہ اسرائیل نے شمالی سرحد پر ہائی الرٹ نافذ کر دیا ہے۔ اس سے خطے میں ایک نئی عسکری لہر کے پیدا ہونے کے خدشات بھی بڑھ رہے ہیں۔ جوابی کارروائی، پھر مزید حملے، پھر عالمی خاموشی—یہ وہ چکر ہے جس نے مشرقِ وسطیٰ کو دہائیوں سے جنگ کے دہانے پر رکھا ہوا ہے۔