اردو ورلڈ کینیڈٓ ( ویب نیوز ) علی خامنہ ای 1939 میں ایران کے شہر مشہد میں ایک مقامی مذہبی رہنما، جواد خامنہ ای کے گھر میں پیدا ہوئے
اور انہوں نے نسبتا غربت میں پرورش پائی، وہ اپنے بھائی بہنوں میں دوسرے نمبر پر تھے۔انہوں نے مشہد میں ایک مدرسے میں ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد عراق کے شہر نجف سے فقہ کی اعلی تعلیم حاصل کی جہاں وہ آیت اللہ خمینی کے طالب علم تھے۔خامنہ ای کی شاعری میں دلچسپی ان کی عوامی شخصیت کا ایک معروف حصہ ہے، وہ اکثر اپنی تقریروں میں اشعار کا حوالہ دیتے تھے اور مشاعروں کی میزبانی کرتے تھے جہاں حکومت حامی شاعر اپنے اشعار پڑھنے اور ان کے تبصرے وصول کرنے کے لیے جمع ہوتے تھے۔مذہبی علما میں خامنہ ای کی ادب میں دلچسپی کافی نایاب ہے، باغبانی میں ان کی دلچسپی کا بھی یہی حال تھا۔وہ ایرانی ریاست کے طاقت کے مراکز میں مرکزی حیثیت رکھنے کے لیے مشہور رہے، بطور رہبرِ اعلی، خامنہ ای کو کسی بھی حکومتی معاملے میں ویٹو کی طاقت حاصل رہی، اس کے علاوہ ان کے پاس یہ اختیار تھا کہ وہ جس کو چاہیں، کسی بھی عوامی دفتر کے امیدوار کے طور پر منتخب کر سکتے تھے۔ریاست کے سربراہ اور فوج کے کمانڈر ان چیف ہونے کے ناطے، وہ ایران کے سب کے طاقتور شخص کے طور پر جانے جاتے تھے۔
خامنہ ای بہت کم ایران سے باہر جاتے تھے اور مرکزی تہران میں واقع ایک کمپاونڈ میں اپنی اہلیہ کے ہمراہ ایک سادہ زندگی گزارتے تھے۔1960 اور 1970 کی دہائیوں میں خامنہ ای شاہ ایران کے خلاف مظاہروں میں شامل رہے اور وہ اس وقت جلاوطنی میں رہنے والے آیت اللہ روح اللہ خمینی کے کٹر حامی تھے۔خامنہ ای کئی برسوں تک روپوش رہے اور انھیں جیل بھی کاٹنی پڑی، شاہِ ایران کی خفیہ پولیس نے انھیں 6 مرتبہ گرفتار کیا اور انھیں تشدد کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای خطے میں ایرانی اثر و رسوخ کو ایک خاص نام دیتے ہیں۔ وہ اسے مزاحمت کا جغرافیہ قرار دیتے ہیں۔1979 کے انقلاب میں شاہ کا تختہ الٹے جانے کے بعد، ایران ایک اسلامی جمہوریہ بن گیا، خامنہ ای کو انقلاب کا انتظام سنبھالنے کے لیے قائم کی گئی اسلامی انقلابی کونسل کا رکن مقرر کیا گیا۔1981 میں وہ 95 فیصد ووٹ حاصل کر کے اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر منتخب ہوئے، خامنہ ای 2 ماہ قبل قاتلانہ حملے کا نشانہ بنے تھے، جس کی وجہ سے وہ شدید زخمی ہو گئے تھے اور ان کا دایاں بازو ناکارہ ہو گیا تھا۔عراق کے خلاف جنگ میں انہوں نے پاسداران انقلاب کی کمان بھی کی۔
1989 میں خمینی کی وفات کے بعد خامنہ ای سپریم لیڈر بنے، انہیں اسلامی علما کے 88 رکنی ادارے، اسمبلی آف ایکسپرٹس نے نیا لیڈر نامزد کیا تھا۔وہ صرف روحانی پیشوا نہیں ہیں بلکہ حکومت کی سمت کا تعین کرنے، مسلح افواج کی کمان اور عدلیہ کے سربراہ کی تقرری میں مشاورت تک ان کے فرائض میں شامل تھی۔ اپنے دور میں خامنہ ای نے روایتی جنگ کی بجائے خطے میں مزاحمت کا محور تشکیل دیا، جس میں لبنان میں حزب اللہ، یمن میں حوثی اور شام میں بشار الاسد کی حکومت شامل تھی، تاہم 2023 میں اسرائیل پر حماس کے حملے کے بعد یہ محور بکھرنے لگا، اسرائیل نے حالیہ مہم میں حزب اللہ کی قیادت کو ختم کر دیا، جبکہ دسمبر 2024 میں شام میں اسد حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا۔خامنہ ای نے ملکی ایٹمی پروگرام کو تیزی سے آگے بڑھایا، جس پر امریکا اور اسرائیل سے مسلسل تصادم ہوا، 2018 میں ٹرمپ کے ایٹمی معاہدے سے نکلنے کے بعد ایران نے یورینیم کی افزودگی ہتھیاروں کے درجے کے قریب تک پہنچا دی۔اندرون ملک، سیاسی جبر اور معاشی بدحالی کے باعث خامنہ ای کو 1997، 2009، 2019 اور 2022 میں مہسا امینی کی موت پر بڑے پیمانے پر مظاہروں کا سامنا کرنا پڑا جنہیں سیکیورٹی فورسز نے انتہائی سختی سے کچل دیا۔ دسمبر 2025 کے اواخر میں 9 کروڑ آبادی والے اس ملک میں دوبارہ شدید معاشی مظاہرے شروع ہوئے جس میں کھلے عام اسلامی جمہوریہ کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا۔