غزہ پر اسرائیل کی وحشیانہ بمباری کا سلسلہ جاری ہے اور صہیونی افواج نے تمام تر بین الاقوامی دباؤ کو اپنے جوتے کی نوک پر رکھتے ہوئے غزہ کو زندہ لوگوں کے قبرستان میں تبدیل کر دیا ہے لیکن اس کے باوجود فلسطینی عوام کے حوصلے بلند ہیں۔ فلسطین کی مزاحمتی تحریک حماس کا کہنا ہے کہ ہم مسلم ممالک سے اپنی فوجیں اسرائیل کے خلاف میدان جنگ میں بھیجنے کا مطالبہ نہیں کرتے بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ مسلم ممالک جنگ کے خاتمے کے لیے اپنے موقف پر عمل درآمد کریں۔حماس کے ترجمان خالد قدومی نے کہا کہ مسلم ممالک اور او آئی سی کے محض بیانات سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا، کیونکہ اسرائیل روزانہ کی بنیاد پر بے گناہ لوگوں کو قتل کر رہا ہے ،انہوں نے کہا کہ او آئی سی کا اتنا اثر و رسوخ ہے کہ وہ عالمی برادری اور اسرائیل پر جنگ روکنے کے لیے دباؤ ڈالتی ہے۔ مسلم ممالک پر یہ ایک بڑا سوالیہ نشان ہے کہ وہ اسرائیل اور عالمی برادری پر دباؤ نہیں ڈال سکتے کہ غزہ کے شہریوں کو پانی فراہم کیا جائے؟
7 اکتوبر کا انتخاب کیوں؟
خالد قدومی نے مزید وضاحت نہیں کی اور کہا کہ یہ ایک ‘تکنیکی اقدام تھا اور اس کے بارے میں صرف غزہ میں حماس کے مجاہدین ہی بتا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس حملے کے پیچھے ایک مقصد لوگوں کو حیران کرنا تھا۔انہوں نے 7 اکتوبر کے اقدام کو اسرائیلی بربریت کا جواب قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل سات دہائیوں سے فلسطینیوں کو نشانہ بنا رہا ہے، یہ کوئی تعجب کی بات نہیں، ہم گزشتہ 75 سال سے ان جنگی جرائم کا شکار ہیں،جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا حماس کو اسرائیل کی جانب سے اس طرح کے سخت ردعمل کی توقع تھی، تو اس نے کہا، "وہ گزشتہ 75 سالوں سے یہ ظلم کر رہی ہے۔ 7 اکتوبر کورہنے دیں، اس سے پہلے مقبوضہ مغربی کنارے کو دیکھ لیں۔” کیا حماس موجود ہے؟ کیا ان کے پاس اسلحہ ہے؟ کیا طوفان الاقصیٰ وہاں ہے؟ پھر مقبوضہ مغربی کنارے میں 300 افراد کو کیوں شہید کیا گیا؟ اسرائیل ہمارے نوجوانوں کو کیوں مار رہا ہے؟ 4600 لوگ کیوں شہید ہوئے؟خالد قدومی نے کہا کہ اسرائیل کو غزہ پر بمباری کے لیے الاقصیٰ طوفان یا 7 اکتوبر کے حملوں کی ضرورت نہیں تھی۔ "7 اکتوبر سے پہلے تشدد اور محاصرے کی وجہ سے ہر اسرائیلی کے مقابلے میں 150 سے 300 فلسطینی شہید ہو رہے تھے۔”
سعودی اسرائیل تعلقات کا ممکنہ قیام
سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کے ممکنہ قیام کے حوالے سے خالد قدومی کا کہنا تھا کہ یہ ایک خطرناک منصوبہ تھا، 7 اکتوبر کی وجہ سے تمام سیاسی کوششیں دم توڑ گئیں۔
بائیکاٹ اور احتجاج
حماس کے ترجمان نے مظاہروں اور بائیکاٹ کی حمایت کی، جس میں لوگ ایسی مصنوعات کے استعمال سے گریز کرتے ہیں یا فاسٹ فوڈ چینز کا بائیکاٹ کرتے ہیں جو اسرائیل سے وابستہ ہیں یا اس کے حملوں کی حمایت کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ‘عوامی رائے بہت اہم ہے، کبھی لوگ کہتے ہیں کہ رائے عامہ سے کوئی فرق نہیں پڑتا، لیکن آج بائیکاٹ عوامی رائے کی وجہ سے ہو رہا ہے، یہ کسی فتوے کی وجہ سے نہیں بلکہ لوگوں نے ایسا کیا ہے۔ اس کے بارے میں سوچنے کے بعد، یہ صرف ایک جذباتی فیصلہ نہیں ہے۔خالد قدومی نے کہا کہ تصور کریں کہ میں ایک مغربی فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ میں بیٹھا ہوں اور سوچ رہا ہوں کہ یہ رقم ایک فلسطینی بچے کے خلاف گولی کے طور پر استعمال ہوگی، اس لیے آپ بائیکاٹ کریں، آپ کسی ثقافت کے خلاف نہیں ہیں،
اگر یہ برانڈز اسرائیل کی حمایت کر رہے ہیں۔ تو اس کا مطلب ہے کہ آپ بھی اس نسل کشی میں ان کی حمایت کر رہے ہیں،انہوں نے مزید کہا کہ جب امریکہ میں ریلیاں نکالی جا رہی ہیں جس کی وجہ سے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جنگ میں وقفہ آیا ہے، صدر جو بائیڈن صدارتی انتخابات سے قبل اسرائیل کے جنگی جرائم اور اس کی فوجی اور مالی امداد کی وجہ سے مقبولیت کھو چکے ہیں۔فلسطینیوں کی حمایت میں مظاہروں کو جاری رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے خالد قدومی نے کہا کہ ‘عوام کے حوصلے بلند رکھنے کے لیے آپ کو سڑکوں پر رہنا چاہیے، میں حماس کی بات نہیں کر رہا، میں عام فلسطینیوں کی بات کر رہا ہوں۔ وہ غریب لوگ جن کا 60 فیصد رہائشی علاقہ تباہ ہو چکا ہے