کیا کینیڈا CUSMA میں اپنے مفادات کا دفاع کر پائے گا؟ اہم اجلاس 29 جنوری کو ہو گا

اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) کینیڈا کی سیاست اور معیشت ایک بار پھر ایک اہم موڑ کی طرف بڑھتی دکھائی دے رہی ہے

جہاں 29 جنوری کو ہونے والا وزارتی اجلاس محض ایک رسمی ملاقات نہیں بلکہ مستقبل کی سمت متعین کرنے والا واقعہ ثابت ہو سکتا ہے۔ وزیر اعظم مارک کارنی کی وزیر اعظم سے متوقع ملاقات دراصل اس وسیع تر پس منظر کا حصہ ہے جس میں کینیڈا، امریکہ اور میکسیکو کے درمیان تجارتی تعلقات، عالمی معاشی دباؤ اور بدلتے ہوئے جیو پولیٹیکل حالات شامل ہیں۔ اس اجلاس کا مرکزی نکتہ کینیڈا۔امریکہ۔میکسیکو تجارتی معاہدے یعنی CUSMA کا آئندہ جائزہ ہے، جو اس سال کے آخر میں ہونا ہے۔
CUSMA معاہدہ کینیڈا کی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ معاہدہ نہ صرف برآمدات، صنعت، زراعت اور توانائی کے شعبوں کو براہ راست متاثر کرتا ہے بلکہ لاکھوں کینیڈین شہریوں کے روزگار اور کاروباری مواقع سے بھی جڑا ہوا ہے۔ ایسے میں اس معاہدے کے جائزے سے قبل ہونے والا پہلا وزارتی اجلاس اس بات کا تعین کرے گا کہ کینیڈا مذاکرات کی میز پر کس حکمت عملی کے ساتھ جائے گا اور وہ اپنے قومی مفادات کا کس حد تک تحفظ کر پائے گا۔
مارک کارنی کا کردار اس عمل میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ وہ ایک ایسے رہنما کے طور پر جانے جاتے ہیں جنہیں عالمی مالیاتی اداروں، بین الاقوامی منڈیوں اور اقتصادی پالیسی سازی کا گہرا تجربہ حاصل ہے۔ ان کی شمولیت اس بات کا اشارہ ہے کہ حکومت اس بار CUSMA کے جائزے کو محض سفارتی رسمی کارروائی کے طور پر نہیں بلکہ ایک سنجیدہ معاشی اور اسٹریٹجک عمل کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ ایسے وقت میں جب عالمی معیشت غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے، کینیڈا کے لیے یہ ناگزیر ہو چکا ہے کہ وہ اپنے تجارتی معاہدوں کو نئے حقائق کے مطابق پرکھے۔
امریکہ کے ساتھ تجارتی تعلقات ہمیشہ سے کینیڈا کے لیے حساس رہے ہیں۔ امریکہ نہ صرف کینیڈا کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے بلکہ اس کی داخلی سیاسی تبدیلیاں براہ راست کینیڈین معیشت پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ گزشتہ برسوں میں تحفظ پسند پالیسیوں، صنعتی سبسڈیز اور سرحدی ضوابط میں سختی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ پرانے مفروضات پر انحصار اب ممکن نہیں رہا۔ CUSMA کے جائزے میں کینیڈا کو اس حقیقت کو مدنظر رکھنا ہوگا کہ امریکہ اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے سخت مؤقف اختیار کر سکتا ہے۔
میکسیکو کے ساتھ تعلقات بھی اس معاہدے کا ایک اہم مگر اکثر نظر انداز کیا جانے والا پہلو ہیں۔ میکسیکو نہ صرف کم لاگت مینوفیکچرنگ کا مرکز ہے بلکہ شمالی امریکہ کی سپلائی چین میں اس کا کردار تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ کینیڈا کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس توازن کو سمجھے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ اس کے صنعتی اور لیبر مفادات کو کسی صورت نقصان نہ پہنچے۔ کارنی اور وزیر اعظم کے درمیان ہونے والی ملاقات اسی توازن کی بنیاد رکھنے میں مدد دے سکتی ہے۔
یہ اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب عالمی سطح پر تجارتی بلاکس کی اہمیت بڑھ رہی ہے۔ یورپ، ایشیا اور افریقہ میں نئے تجارتی اتحاد تشکیل پا رہے ہیں اور بڑی معیشتیں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے زیادہ جارحانہ پالیسیوں کی طرف مائل ہو رہی ہیں۔ کینیڈا کے لیے یہ لمحہ خود احتسابی کا ہے کہ آیا وہ محض ایک درمیانی طاقت کے طور پر حالات کے ساتھ بہتا رہے گا یا ایک فعال کردار ادا کرتے ہوئے اپنی شرائط منوانے کی کوشش کرے گا۔

داخلی سطح پر بھی CUSMA کا جائزہ سیاسی اہمیت رکھتا ہے۔ مختلف صوبے، خاص طور پر وہ جن کی معیشت برآمدات پر منحصر ہے، اس عمل کو بغور دیکھ رہے ہیں۔ آٹو انڈسٹری، زراعت، ڈیری سیکٹر اور توانائی کے شعبے پہلے ہی خدشات کا اظہار کر چکے ہیں۔ حکومت کے لیے یہ ایک امتحان ہوگا کہ وہ وفاقی مفادات اور صوبائی ترجیحات کے درمیان کس طرح توازن قائم کرتی ہے۔یہ بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ عوامی سطح پر تجارتی معاہدوں کے بارے میں شعور بڑھ رہا ہے۔ اب یہ محض ماہرینِ معیشت کا موضوع نہیں رہا بلکہ عام شہری بھی جاننا چاہتے ہیں کہ ایسے معاہدے ان کی روزمرہ زندگی پر کس طرح اثر انداز ہوتے ہیں۔ روزگار، قیمتیں، سپلائی چین اور معاشی تحفظ جیسے مسائل براہ راست عوامی مفاد سے جڑے ہیں۔ حکومت پر لازم ہے کہ وہ شفافیت اختیار کرے اور عوام کو اعتماد میں لے۔
مارک کارنی اور وزیر اعظم کی ملاقات اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ یہ مستقبل کی حکومتی ترجیحات کا عندیہ دے سکتی ہے۔ اگر اس اجلاس میں مضبوط اور واضح حکمت عملی سامنے آتی ہے تو یہ کینیڈا کے لیے ایک مثبت پیغام ہوگا کہ وہ بدلتے ہوئے عالمی نظام میں اپنی جگہ محفوظ کرنے کے لیے تیار ہے۔ تاہم اگر یہ ملاقات محض بیانات اور رسمی گفتگو تک محدود رہی تو یہ ایک ضائع شدہ موقع تصور کیا جائے گا۔

آخرکار یہ کہا جا سکتا ہے کہ 29 جنوری کا اجلاس کینیڈا کی تجارتی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل بن سکتا ہے۔ CUSMA کے جائزے سے قبل کی جانے والی تیاری ہی اس بات کا تعین کرے گی کہ کینیڈا مذاکرات میں مضبوط پوزیشن حاصل کر پاتا ہے یا نہیں۔ مارک کارنی کا تجربہ اور وزیر اعظم کی سیاسی قیادت اگر یکجا ہو جائیں تو یہ ملک کے لیے ایک مضبوط معاشی سمت کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔ بصورت دیگر کینیڈا کو ایک بار پھر بڑے شراکت داروں کے فیصلوں کے مطابق خود کو ڈھالنا پڑے گا۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں