اردو ورلڈ کینیڈا (ویب نیوز) ٹورنٹو کی ٹیم نے لاس اینجلس کی ٹیم کو پانچویں میچ میں ایک کے مقابلے میں چھ رنز سے شکست دے کر سن دو ہزار پچیس کی عالمی بیس بال چیمپئن شپ جیتنے کے لیے صرف ایک کامیابی کی دوری پر پہنچ گئی ہے۔
اس مقابلے میں بلے بازوں نے آغاز ہی سے بھرپور جارحانہ کھیل پیش کیا جبکہ بائیس سالہ نئے گیند باز نے تاریخ رقم کردی۔ مقابلے کے پہلے ہی اوور میں ڈیوس شنائیڈر نے پہلی ہی گیند پر چھکا لگا کر رن حاصل کیا، اور چند لمحوں بعد ہی ولادیمیر گوریرو جونیئر نے تیسری گیند پر ایک اور چھکا لگا دیا — یہ پہلا موقع تھا کہ عالمی فائنل کے کسی میچ کا آغاز لگاتار دو چھکوں سے ہوا۔
اس کے بعد نوجوان گیند باز کھیل میں آئے، جنہوں نے سات اوور پھینکے، صرف تین مرتبہ گیند کو بلے سے ٹکرانے دیا اور ایک رن دیا، ساتھ ہی **بارہ کھلاڑیوں کو آؤٹ** کر کے نئے کھلاڑی کا نیا عالمی ریکارڈ قائم کردیا۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ انہوں نے ایک بھی اضافی گیند نہیں پھینکی۔دوسری جانب لاس اینجلس کی ٹیم کی کارکردگی کمزور رہی۔ ان کی بیٹنگ لائن پوری طرح ناکام رہی، اور ٹیم انتظامیہ کی تبدیلیاں بھی فائدہ نہ دے سکیں۔ انہوں نے مسلسل انتیس اوورز میں مجموعی طور پر صرف چار رنز بنائے۔اب صورتحال یہ ہے کہ ٹورنٹو کی ٹیم تین کے مقابلے میں دو فتوحات کے ساتھ برتری حاصل کر چکی ہے، اور اگلا میچ اپنے ہوم گراؤنڈ پر جیت کر ٹرافی اٹھانے کا سنہری موقع رکھتی ہے۔
جیت کے بعد نوجوان گیند باز نے کہا کہ “یہ سب کچھ میرے لیے بھی ناقابلِ یقین ہے… شاید فلمی دنیا بھی ایسا منظر نہ لکھ پاتی۔یہ میچ نہ صرف ٹورنٹو کی ٹیم کے لیے اہم ثابت ہوا بلکہ پورے کھیل کی دنیا میں تاریخی لمحہ بن گیا — جہاں ایک نوجوان کھلاڑی نے دباؤ کے عالم میں غیر معمولی کارکردگی دکھاتے ہوئے اپنی ٹیم کو فتح کے دہانے پر لا کھڑا کیا۔