نوجوان نسل دیوار سے لگ گئی؟ کینیڈا میں بے روزگاری کا نیا بحران

اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) کینیڈا کی معیشت ایک بار پھر متضاد اعداد و شمار کے باعث بحث کا مرکز بن گئی ہے۔

دسمبر 2025 میں جہاں معیشت نے 8,200 نئی نوکریاں پیدا کیں، وہیں بے روزگاری کی شرح بڑھ کر 6.8 فیصد تک جا پہنچی۔ بظاہر یہ اعداد و شمار ایک دوسرے سے متصادم دکھائی دیتے ہیں، مگر درحقیقت یہی تضاد کینیڈا کی لیبر مارکیٹ کی پیچیدہ اور بدلتی ہوئی حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف پالیسی سازوں بلکہ عام شہریوں، خاص طور پر نوجوانوں کے لیے بھی تشویش کا باعث بن چکی ہے۔
گزشتہ تین ماہ، یعنی ستمبر سے نومبر تک، کینیڈین معیشت نے غیر معمولی کارکردگی دکھائی تھی، جب مجموعی طور پر 181 ہزار نئی نوکریاں پیدا ہوئیں۔ یہ ایک ایسی پیش رفت تھی جس نے مہینوں کی معاشی جمود کے بعد امید کی ایک کرن پیدا کی۔ یاد رہے کہ 2025 کے ابتدائی آٹھ ماہ میں امریکی ٹیرف، عالمی تجارتی غیر یقینی صورتحال اور مہنگائی کے دباؤ نے روزگار کی تخلیق کو تقریباً روک دیا تھا۔ ایسے میں دسمبر کے اعداد و شمار اگرچہ کمزور نظر آتے ہیں، مگر انہیں مکمل ناکامی قرار دینا بھی حقیقت سے آنکھیں چرانے کے مترادف ہوگا۔
بے روزگاری میں اضافے کی بنیادی وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ زیادہ افراد نے ملازمت کی تلاش شروع کر دی ہے۔ شماریات کینیڈا کے مطابق لیبر فورس میں شمولیت بڑھی ہے، یعنی وہ افراد جو پہلے مایوس ہو کر ملازمت کی تلاش چھوڑ چکے تھے، اب دوبارہ مارکیٹ میں واپس آ رہے ہیں۔ ماہرین معاشیات کے مطابق یہ ایک حوصلہ افزا علامت بھی ہو سکتی ہے، کیونکہ یہ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ عوام کو مستقبل میں روزگار کے مواقع بہتر ہونے کی امید ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ نوکریوں کی رفتار اس اضافی طلب کو پورا کرنے سے قاصر دکھائی دے رہی ہے۔
دسمبر میں پیدا ہونے والی نوکریوں کی نوعیت بھی غور طلب ہے۔ مکمل وقتی (فل ٹائم) ملازمتوں میں 50,200 کا اضافہ ہوا، جو بلاشبہ ایک مثبت پیش رفت ہے، مگر اسی دوران جزوقتی (پارٹ ٹائم) ملازمتوں میں 42 ہزار کی کمی واقع ہوئی۔ اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ آجر زیادہ مستحکم اور مستقل ملازمین کی طرف جا رہے ہیں، مگر وہ افراد جو جزوقتی ملازمتوں پر انحصار کرتے ہیں، خصوصاً طلبہ اور کم آمدنی والے طبقے، ان کے لیے صورتحال مزید مشکل ہو گئی ہے۔
شعبہ جاتی سطح پر دیکھا جائے تو صحت اور سماجی خدمات کے شعبے میں 21 ہزار نئی نوکریاں پیدا ہوئیں، جو آبادی کے بڑھتے ہوئے دباؤ اور عمر رسیدہ افراد کی تعداد میں اضافے کا منطقی نتیجہ ہے۔ اس کے برعکس پیشہ ورانہ، سائنسی اور تکنیکی خدمات کے شعبے میں 18 ہزار ملازمتوں کی کمی واقع ہوئی، جو اگست کے بعد پہلی نمایاں گراوٹ ہے۔ یہ کمی اس بات کی علامت ہو سکتی ہے کہ نجی شعبہ اب بھی غیر یقینی صورتحال کے باعث سرمایہ کاری اور بھرتیوں میں محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہے۔
سب سے زیادہ تشویشناک پہلو نوجوانوں کی بے روزگاری ہے۔ 15 سے 24 سال کی عمر کے نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح بڑھ کر 13.3 فیصد ہو گئی، جو اگرچہ ستمبر میں ریکارڈ کی گئی 15 سالہ بلند ترین سطح 14.7 فیصد سے کم ہے، مگر اب بھی ایک خطرناک حد تصور کی جاتی ہے۔ نوجوانوں کے لیے یہ صورتحال اس لیے بھی سنگین ہے کہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد ملازمت نہ ملنا نہ صرف ان کے معاشی مستقبل بلکہ ذہنی صحت اور سماجی استحکام پر بھی منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔ ایک ایسا ملک جو خود کو مواقع کی سرزمین کہتا ہے، وہاں نوجوانوں کا ہزاروں درخواستیں بھیجنے کے باوجود جواب نہ پانا ایک لمحۂ فکریہ ہے۔
اجرتوں کے محاذ پر بھی ملا جلا رجحان سامنے آیا ہے۔ دسمبر میں اوسط اجرت میں سالانہ بنیاد پر 3.4 فیصد اضافہ ہوا، جو نومبر کے 3.6 فیصد اضافے سے کم ہے۔ یہ کمی اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اجرتوں کا دباؤ آہستہ آہستہ کم ہو رہا ہے، جو مہنگائی کے تناظر میں مرکزی بینک کے لیے ایک مثبت خبر ہو سکتی ہے۔ تاہم عام شہری کے لیے یہ اضافہ اب بھی بڑھتی ہوئی زندگی کی لاگت کو پورا کرنے کے لیے ناکافی محسوس ہوتا ہے۔
بینک آف کینیڈا کے لیے یہ اعداد و شمار غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں، کیونکہ یہ شرح سود سے متعلق آئندہ فیصلوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ دسمبر کی یہ معتدل رپورٹ مرکزی بینک کو شرح سود میں کسی فوری تبدیلی پر مجبور نہیں کرے گی۔ پالیسی ریٹ پہلے ہی 2.25 فیصد پر برقرار ہے، اور غالب امکان یہی ہے کہ بینک محتاط انداز اپناتے ہوئے حالات کا مزید جائزہ لے گا۔
تاہم اصل سوال یہ ہے کہ کیا کینیڈین معیشت واقعی درست سمت میں جا رہی ہے یا یہ محض عارضی استحکام ہے؟ امریکی تجارتی پالیسیوں، عالمی جغرافیائی کشیدگی اور اندرونی معاشی دباؤ کے تناظر میں کینیڈا کے لیے آئندہ مہینے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ اگر نوکریوں کی تخلیق کی رفتار تیز نہ ہوئی تو بے روزگاری میں مزید اضافہ عوامی بے چینی کو جنم دے سکتا ہے۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ دسمبر کے اعداد و شمار نہ مکمل خوشخبری ہیں اور نہ ہی مکمل مایوسی۔ یہ ایک انتباہ ہیں—پالیسی سازوں کے لیے کہ وہ نوجوانوں اور کمزور طبقات کے لیے ہدفی اقدامات کریں، اور عوام کے لیے کہ معاشی بحالی ایک طویل اور صبر آزما عمل ہے۔ کینیڈا اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں درست فیصلے اسے استحکام کی راہ پر ڈال سکتے ہیں، اور غلط اندازے ایک نئے معاشی بحران کو جنم دے سکتے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ نوکریاں بڑھیں یا بے روزگاری، اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ معیشت عام کینیڈین کے لیے واقعی کام کر رہی ہے؟

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں