اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) اونٹاریو حکومت کی جانب سے یکم جنوری 2026 سے ملازمت کے اشتہارات سے متعلق نئے قوانین کا نفاذ اہم پالیسی قدم ہے
جسے بظاہر شفافیت، مساوات اور انصاف کے فروغ کی کوشش کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ ان قوانین کے تحت بڑے اداروں، یعنی وہ آجر جن کے پاس 25 سے زائد ملازمین ہیں، پر لازم ہوگا کہ وہ ملازمت کے اشتہارات میں تنخواہ کی معلومات فراہم کریں، بھرتی کے عمل میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کی وضاحت کریں، کینیڈین تجربے کی شرط عائد نہ کریں اور امیدواروں کو 45 دن کے اندر بھرتی کے فیصلے سے آگاہ کریں۔ تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ اصلاحات واقعی ملازمت کے متلاشی افراد کے لیے عملی فائدہ ثابت ہوں گی یا محض ایک کاغذی تبدیلی بن کر رہ جائیں گی؟
شفافیت کا تصور بلاشبہ ایک مثبت اور خوش آئند نظریہ ہے۔ برسوں سے ملازمت کے امیدوار اس شکایت کا اظہار کرتے آئے ہیں کہ انہیں تنخواہ، ترقی کے مواقع اور بھرتی کے مراحل سے متعلق مکمل معلومات فراہم نہیں کی جاتیں۔ اکثر افراد طویل انٹرویوز اور وقت کے ضیاع کے بعد یہ جان کر مایوس ہوتے ہیں کہ پیش کردہ معاوضہ ان کی توقعات سے کہیں کم ہے۔ اس تناظر میں تنخواہ کی معلومات کو لازمی قرار دینا ایک درست قدم محسوس ہوتا ہے۔
لیکن مسئلہ اس قانون کی باریکیوں میں پوشیدہ ہے۔ اگر آجر کو یہ اجازت دی جائے کہ وہ تنخواہ کی حد 50 ہزار ڈالر سالانہ تک وسیع رکھ سکتا ہے، تو سوال یہ ہے کہ اس معلومات کی افادیت کہاں باقی رہتی ہے؟ مثال کے طور پر اگر کسی ملازمت کے لیے تنخواہ کی حد 60 ہزار سے 110 ہزار ڈالر ظاہر کی جائے، تو امیدوار کو عملی طور پر کیا رہنمائی حاصل ہوگی؟ اس طرح کی وسیع حد نہ صرف امیدوار کو الجھن میں ڈال سکتی ہے بلکہ آجر کو بھی یہ گنجائش فراہم کرتی ہے کہ وہ بعد میں کم تنخواہ پر بات چیت کرے۔برٹش کولمبیا کی مثال ہمارے سامنے موجود ہے، جہاں 2023 میں اسی نوعیت کا قانون نافذ کیا گیا۔ اگرچہ وہاں اجرتی عدم مساوات میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی، مگر صنفی اجرت کے فرق کو نمایاں طور پر کم کرنے میں یہ قانون ابھی تک ناکام رہا ہے۔ یہ تجربہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ صرف تنخواہ ظاہر کرنا کافی نہیں، بلکہ اس کے ساتھ ساتھ واضح معیار، سخت نگرانی اور مؤثر نفاذ بھی ضروری ہے۔
ان نئے قوانین کا ایک اور اہم پہلو بھرتی کے عمل میں مصنوعی ذہانت کے استعمال سے متعلق انکشاف ہے۔ جدید دور میں اے آئی ٹیکنالوجی تیزی سے انسانی وسائل کے شعبے میں داخل ہو رہی ہے۔ ریزیومے کی جانچ، ابتدائی اسکریننگ اور حتیٰ کہ انٹرویو کے سوالات تک اب الگورتھمز کے ذریعے طے کیے جا رہے ہیں۔ حکومت کا مطالبہ ہے کہ آجر اس بات کی وضاحت کریں کہ آیا وہ اے آئی استعمال کر رہے ہیں یا نہیں۔ یہ اقدام بظاہر شفافیت کے فروغ کے لیے ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا محض انکشاف کرنا کافی ہے؟ماہرین کے مطابق مسئلہ صرف یہ جاننے کا نہیں کہ اے آئی استعمال ہو رہی ہے، بلکہ یہ جانچنا بھی ضروری ہے کہ وہ کس طرح استعمال ہو رہی ہے، کن ڈیٹا سیٹس پر مبنی ہے اور آیا وہ کسی مخصوص طبقے کے خلاف غیر محسوس تعصب تو نہیں رکھتی۔ اگر ہر آجر ایک ہی جملہ دہرا دے کہ ہم ابتدائی اسکریننگ میں اے آئی استعمال کرتے ہیں اور بعد میں انسان مداخلت کرتا ہے، تو امیدوار کو اس سے کیا عملی فائدہ ہوگا؟ شفافیت تبھی بامعنی ہوتی ہے جب اس کے ساتھ جوابدہی اور نگرانی بھی موجود ہو۔
کینیڈین تجربے کی شرط پر پابندی ایک اور اہم اصلاح ہے، جو خاص طور پر نئے تارکین وطن کے لیے امید کی کرن سمجھی جا رہی ہے۔ برسوں سے یہ شکایت کی جا رہی ہے کہ بین الاقوامی تجربہ رکھنے کے باوجود امیدواروں کو صرف اس بنیاد پر مسترد کر دیا جاتا ہے کہ ان کے پاس کینیڈا میں کام کرنے کا تجربہ نہیں۔ یہ شرط نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ ملک کی معیشت کے لیے بھی نقصان دہ ہے، کیونکہ اس سے ہنر مند افرادی قوت کا ضیاع ہوتا ہے۔ اس شرط پر پابندی ایک درست قدم ہے، مگر اس کے عملی نفاذ پر سوالات باقی ہیں۔ اگر آجر اشتہار میں شرط تو نہ لکھے مگر انٹرویو کے دوران اسی بنیاد پر امیدوار کو نظر انداز کر دے، تو قانون کی روح کہاں باقی رہے گی؟
اسی طرح 45 دن کے اندر امیدوار کو بھرتی کے فیصلے سے آگاہ کرنے کی شرط بھی بظاہر امیدوار دوست ہے۔ موجودہ نظام میں اکثر افراد مہینوں تک جواب کے منتظر رہتے ہیں، جس سے نہ صرف ذہنی دباؤ بڑھتا ہے بلکہ وہ دیگر مواقع بھی کھو دیتے ہیں۔ تاہم اس شرط کا نفاذ بھی آسان نہیں ہوگا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب اونٹاریو میں بے روزگاری کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے اور آجر پہلے ہی معاشی دباؤ کا شکار ہیں۔
یہاں یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا اس وقت ان اصلاحات کا نفاذ درست ہے؟ بھرتی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ معاشی حالات میں، جب کمپنیاں لاگت کم کرنے اور منافع بڑھانے کی جدوجہد کر رہی ہیں، اضافی قانونی تقاضے ان کے لیے بوجھ بن سکتے ہیں۔ اگر آجر ان قوانین کو محض ایک رسمی کارروائی سمجھ کر نافذ کریں گے، تو ان کا مقصد فوت ہو جائے گا۔
اداریہ اس بات سے اتفاق کرتا ہے کہ روزگار کے نظام میں شفافیت، مساوات اور انصاف ناگزیر ہیں۔ لیکن قانون سازی تبھی مؤثر ثابت ہوتی ہے جب وہ زمینی حقائق کے مطابق ہو، اس پر مؤثر عملدرآمد ہو اور اس کے نتائج کی باقاعدہ جانچ کی جائے۔ اگر حکومت واقعی چاہتی ہے کہ یہ اصلاحات محض علامتی نہ رہیں، تو اسے آجرین اور امیدواروں دونوں کے لیے واضح رہنمائی، شکایات کے ازالے کا مضبوط نظام اور مستقل نگرانی کو یقینی بنانا ہوگا۔