7
اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) ایک نئی سائنسی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ جسم میں آئرن کی شدید کمی بڑھاپے میں دماغی بیماری ڈیمنشیا کے خطرے میں اضافہ کر سکتی ہے۔
اس تحقیق میں 60 سال سے زائد عمر کے ہزاروں افراد کو تقریباً ایک دہائی تک مانیٹر کیا گیا، جس کے دوران ان کی صحت اور خون میں آئرن کی سطح کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آئرن کی کمی، جسے طبی اصطلاح میں اینیمیا کہا جاتا ہے، نہ صرف جسمانی کمزوری بلکہ ذہنی صلاحیتوں پر بھی منفی اثر ڈال سکتی ہے۔ ایسے افراد میں یادداشت، بات چیت، سمجھنے اور فیصلہ سازی کی صلاحیت متاثر ہونے کا خدشہ زیادہ ہوتا ہے۔
اگرچہ ماضی میں اس حوالے سے مختلف تحقیقات میں متضاد نتائج سامنے آئے تھے، تاہم حالیہ تحقیق اس بات کی جانب اشارہ کرتی ہے کہ خون میں آئرن کی کم سطح اور ڈیمنشیا کے درمیان ممکنہ تعلق کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
ماہرین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ خاص طور پر معمر افراد کو اپنی غذائی عادات اور صحت کا خیال رکھنا چاہیے تاکہ آئرن کی کمی سے بچا جا سکے اور دماغی صحت کو بہتر رکھا جا سکے۔