39
اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) وزیرِاعظم مارک کارنی نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ کینیڈا کا سپلائی مینجمنٹ سسٹم کسی صورت مذاکرات کی میز پر نہیں آئے گا ۔
چاہے امریکا کینیڈا۔امریکا۔میکسیکو تجارتی معاہدے (CUSMA) میں توسیع کے لیے دباؤ کیوں نہ ڈالے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکا نے کینیڈا کے ڈیری قوانین میں تبدیلی کو معاہدے کی توسیع سے جوڑ دیا ہے۔امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریئر نے بدھ کے روز امریکی کانگریس کے اراکین کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن CUSMA میں توسیع کے لیے اس وقت تک تیار نہیں ہوگا جب تک کینیڈا کے بعض ’’ساختی مسائل‘‘ حل نہ کیے جائیں، جن میں خاص طور پر **کینیڈا کی ڈیری مارکیٹ تک محدود امریکی رسائی** شامل ہے۔
گریئر کے مطابق امریکی حکومت کو کینیڈا کی جانب سے ڈیری مصنوعات کی درآمد پر پابندیوں اور بعض دودھ سے بننے والی مصنوعات کی برآمدات پر شدید تحفظات ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کینیڈا کی پالیسیاں امریکی ڈیری مصنوعات کے لیے منصفانہ مارکیٹ رسائی میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔
وزیرِاعظم مارک کارنی نے کہا "سپلائی مینجمنٹ ہمارے لیے قابلِ مذاکرہ نہیں ہے۔ ہم اس نظام کے ساتھ کھڑے ہیں اور آئندہ بھی اس کا مکمل تحفظ کریں گے۔”کارنی نے یہ بیان اونٹاریو کے وزیرِاعلیٰ ڈگ فورڈ کے ہمراہ ایک تقریب میں دیا، جہاں بڑے ترقیاتی منصوبوں میں وفاق اور صوبوں کے درمیان ہم آہنگی پر بات کی جا رہی تھی۔دلچسپ امر یہ ہے کہ سپلائی مینجمنٹ سے متعلق سوال انگریزی میں پوچھا گیا، مگر وزیرِاعظم نے جواب فرانسیسی زبان میں دیا، جسے مبصرین نے کیوبیک کے ڈیری کسانوں کے لیے واضح سیاسی پیغام قرار دیا، جہاں یہ نظام نہایت مضبوط عوامی اور صنعتی حمایت رکھتا ہے۔
سپلائی مینجمنٹ کیا ہے؟
یہ پالیسی 1970 کی دہائی سے نافذ ہے جس کا مقصد: کسانوں کو کم از کم قیمت کی ضمانت دینا، پیداوار کو ملکی طلب کے مطابق محدود رکھنا،صارفین کے لیے قیمتوں میں غیر یقینی صورتحال سے بچاؤ،یہ نظام خاص طور پر دودھ، انڈے اور پولٹری کے شعبوں میں لاگو ہے۔CUSMA کے تحت امریکا کو کینیڈا کی ڈیری مارکیٹ میں تقریباً 3.5 فیصد ٹیریف فری رسائی حاصل ہے۔ تاہم امریکی ڈیری لابی اس سے مطمئن نہیں اور دو بڑے نکات پر اعتراض اٹھا رہی ہے:
1. کینیڈا کی جانب سے ڈیری درآمدی کوٹہ کس طرح تقسیم کیا جاتا ہے
2. کینیڈا کے دودھ سے حاصل شدہ پروٹین کا عالمی منڈی میں برآمد کیا جانا
امریکا کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات امریکی ڈیری صنعت کے لیے نقصان دہ ہیں۔ڈیری کے علاوہ امریکی تجارتی نمائندے نے کینیڈا کے خلاف مزید شکایات بھی درج کروائیں، جن میں، آن لائن پلیٹ فارمز (نیٹ فلکس، اسپاٹی فائی، یوٹیوب) سے متعلق قوانین، بعض صوبوں میں امریکی شراب کے بائیکاٹ ،کارنی نے ان تمام نکات کو ’’وسیع تر تجارتی مذاکرات‘‘ کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ:
> "ہم صرف وہی معاہدہ کریں گے جو کینیڈین عوام کے مفاد میں ہوگا۔”
وزیرِاعظم کارنی نے انکشاف کیا کہ امریکا اور کینیڈا کے درمیان معاہدہ **تقریباً طے پا چکا تھا**، مگر اکتوبر میں مذاکرات اس وقت تعطل کا شکار ہو گئے جب اونٹاریو حکومت نے امریکی ٹیرف کے خلاف ایک اشتہار چلایا، جس میں سابق امریکی صدر رونالڈ ریگن کی آواز شامل تھی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسی اشتہار کو جواز بنا کر بات چیت ختم کر دی۔ CUSMA کا باضابطہ جائزہ آئندہ سال شروع ہوگا، جس کے بعد تینوں ممالک 2036 کے بعد معاہدے میں توسیع یا تبدیلی کا فیصلہ کریں گے۔ موجودہ صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈیری سیکٹر آئندہ مذاکرات میں سب سے بڑا تناز بن سکتا ہے، تاہم کینیڈا کی حکومت نے واضح کر دیا ہے کہ سپلائی مینجمنٹ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔