امریکی ٹیرف کے جواب میں کینیڈا کے پاس کیا آپشنز ہیں؟ماہرین نے بھی خبردار کردیا

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)

امریکی ٹیرف کا جواب کیسے دیا جائے؟ کینیڈا کے پاس امریکا پر دباؤ ڈالنے کے کئی آپشنز، ماہرین نے خطرات سے بھی خبردار کردیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے جنوری میں مزید ٹیرف عائد کرنے کے اعلان کے بعد کینیڈا میں یہ بحث شدت اختیار کر گئی ہے کہ امریکا کو اپنی تجارتی پالیسی تبدیل کرنے پر مجبور کرنے کے لیے اوٹاوا کے پاس کون سے مؤثر آپشنز موجود ہیں۔

تاہم ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ امریکا کے خلاف سخت اقدامات بظاہر کینیڈا کو دباؤ ڈالنے کی صلاحیت تو دے سکتے ہیں، لیکن ان میں سے کئی اقدامات کا نقصان خود کینیڈا کی معیشت کو بھی اٹھانا پڑ سکتا ہے۔

ٹرمپ کی پالیسی تبدیل کرانا مشکل

میک گل یونیورسٹی کے میکس بیل اسکول آف پبلک پالیسی کے بانی ڈائریکٹر کرسٹوفر ریگن کا کہنا ہے کہ کینیڈا ایک ایسے فریق کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے جس کی پالیسی غیر متوقع اور غیر یقینی دکھائی دیتی ہے۔

ان کے مطابق اس صورتحال میں کسی کو یقین سے معلوم نہیں کہ امریکا پر دباؤ ڈالنے کے لیے کون سا طریقہ مؤثر ثابت ہوگا۔

امریکا کو کہاں نقصان پہنچایا جا سکتا ہے؟

ٹی ڈی بینک کے سابق چیف اکنامسٹ ڈان ڈرمنڈ کا کہنا ہے کہ اگر کینیڈین عوام معاشی نتائج برداشت کرنے کے لیے تیار ہوں تو امریکا کے خلاف جوابی اقدامات کے کئی راستے موجود ہیں۔

ان کے مطابق کینیڈا کو ان شعبوں پر توجہ دینی چاہیے جنہیں امریکا اپنی معیشت کے لیے زیادہ اہم سمجھتا ہے، خاص طور پر توانائی کے شعبے میں۔

تیل اور گیس کینیڈا کا بڑا ہتھیار

امریکا توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بڑی حد تک کینیڈا پر انحصار کرتا ہے۔

2025 کے اعداد و شمار کے مطابق امریکا کی درآمدی ضروریات میں کینیڈا سے آنے والے تیل کا حصہ 63 فیصد، درآمدی بجلی کا 81.3 فیصد اور قدرتی گیس کا تقریباً 100 فیصد تھا۔

امریکا کی درآمد کردہ پوٹاش کا بھی تقریباً 80 فیصد کینیڈا سے آتا ہے۔

توانائی پر ایکسپورٹ ٹیکس کی تجویز

ماہر ڈان ڈرمنڈ نے تجویز دی کہ کینیڈا ضرورت پڑنے پر تیل اور قدرتی گیس کی برآمدات پر ٹیکس عائد کر سکتا ہے۔

ان کے مطابق کینیڈا ماضی میں بھی توانائی کی برآمدات پر ٹیکس استعمال کر چکا ہے اور مستقبل میں کوٹے یا دیگر پابندیوں پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔

ایسے اقدامات سے امریکا میں توانائی کی قیمتوں پر اثر پڑنے کا امکان ہے۔

اہم معدنیات بھی دباؤ کا ذریعہ

کینیڈا کے پاس اہم اور نایاب معدنیات کے وسیع ذخائر موجود ہیں، اگرچہ ان کی مکمل تجارتی ترقی میں ابھی وقت لگے گا۔

ڈرمنڈ کے مطابق کینیڈا امریکا کو یہ واضح کر سکتا ہے کہ جب ان معدنی ذخائر کی پیداوار مکمل طور پر شروع ہوگی تو امریکا کو خودکار طور پر ترجیحی رسائی نہیں دی جائے گی۔

امریکی شہریوں پر پابندیاں؟

ڈرمنڈ نے کہا کہ انتہائی صورت میں کینیڈا امریکا کے شہریوں کی ملک تک رسائی محدود کرنے کے اقدامات پر بھی غور کر سکتا ہے۔

ان کے مطابق ایسے اقدامات میں ویزا پالیسی سخت کرنا بھی شامل ہو سکتا ہے، تاہم یہ آپشن انتہائی نوعیت کا تصور کیا جائے گا۔

ایف 35 کی خریداری پر نظرثانی

امریکا کے خلاف ایک اور ممکنہ دباؤ کے طور پر کینیڈا ایف 35 لڑاکا طیاروں کی خریداری کے فیصلے پر نظرثانی کر سکتا ہے۔

ڈرمنڈ کے مطابق کینیڈا امریکی ایف 35 کے بجائے سویڈن کے گرپن لڑاکا طیاروں کے انتخاب پر غور کر سکتا ہے۔

امریکی بانڈز بھی ایک آپشن

کینیڈین بینکوں، حکومتوں، پنشن فنڈز اور دیگر اداروں کے پاس امریکا کے تقریباً 459.6 ارب ڈالر مالیت کے ٹریژری بانڈز موجود ہیں۔

ڈرمنڈ کے مطابق اگر کینیڈا ان بانڈز میں مزید سرمایہ کاری نہ کرنے یا اپنی موجودہ سرمایہ کاری کم کرنے کا فیصلہ کرے تو اس کا امریکا کی مالیاتی منڈیوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔

خصوصاً ایسے وقت میں جب امریکا طویل مدتی بانڈز کی شرح منافع کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

پنشن فنڈ کو سیاسی ہتھیار نہ بنانے کی تنبیہ

تاہم ڈرمنڈ نے خبردار کیا کہ کینیڈا پینشن پلان کے اثاثوں کو تجارتی تنازع میں سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کرنا چاہیے۔

سی پی پی کے تقریباً 864 ارب ڈالر کے فنڈ کا 51 فیصد حصہ امریکا میں سرمایہ کاری کی صورت میں موجود ہے، جبکہ صرف 12 فیصد کینیڈا میں لگایا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکی اثاثوں سے مکمل انخلا کینیڈین شہریوں کی ریٹائرمنٹ کی بچت کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔

ڈیجیٹل سروسز ٹیکس واپس لانے کی تجویز

ڈرمنڈ نے ڈیجیٹل سروسز ٹیکس دوبارہ نافذ کرنے کی تجویز بھی دی۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ کینیڈا نے یہ ٹیکس ختم کر کے کیا حاصل کیا اور کہا کہ اس قسم کے اقدامات امریکا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو براہ راست متاثر کر سکتے ہیں۔

امریکی فلمی پروڈکشن پر رعایت ختم کرنے کا آپشن

ایک اور تجویز کے طور پر کینیڈا کی فلم یا ویڈیو پروڈکشن ٹیکس کریڈٹ ختم کرنے کا امکان بھی زیر بحث آیا۔

ڈرمنڈ کے مطابق اس رعایت کے باعث کینیڈا کو سالانہ تقریباً 50 کروڑ ڈالر کے ٹیکس ریونیو کا نقصان ہوتا ہے، جبکہ اس کے معاشی فوائد محدود ہیں۔

جوابی اقدامات کینیڈا کو بھی نقصان پہنچا سکتے ہیں

یونیورسٹی آف کیلگری کے اسکول آف پبلک پالیسی کے ماہر ٹریور ٹومبے نے خبردار کیا کہ جذبات کی بنیاد پر امریکا کو نقصان پہنچانے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کینیڈا کے لیے زیادہ مہنگے ثابت ہو سکتے ہیں۔

ان کے مطابق تقریباً 27 ارب ڈالر مالیت کی کینیڈین اشیا پر 50 فیصد امریکی ٹیرف کینیڈا کی مجموعی قومی پیداوار کو تقریباً 0.4 سے 0.5 فیصد تک متاثر کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :امریکی ٹیرف کا کینیڈین جنگلاتی صنعت پر بڑا وار، تین سال میں 20 سے زائد لکڑی کے کارخانے بند

ان کا کہنا ہے کہ ایسا جوابی اقدام جو کینیڈا کو اس سے زیادہ نقصان پہنچائے، صرف اسی صورت میں قابلِ جواز ہوگا جب وہ واقعی امریکا کی پالیسی تبدیل کرنے میں کامیاب ہو۔

امریکا کینیڈا کو ذمہ دار ٹھہرا سکتا ہے

ٹومبے کے مطابق اگر کینیڈا ایسے اقدامات کرتا ہے جن سے امریکا میں قیمتیں بڑھتی ہیں تو امریکی انتظامیہ اس صورتحال کا الزام بھی کینیڈا پر عائد کر سکتی ہے۔اس طرح جوابی اقدامات کا سیاسی فائدہ بھی امریکا کی حکومت کو پہنچ سکتا ہے۔

طویل مدتی تعلقات کو خطرہ

اوٹاوا یونیورسٹی کے کاروبار اور تجارتی قانون کے ماہر وولف گینگ الشنر نے کہا کہ کینیڈا کے پاس امریکا کو نقصان پہنچانے کی صلاحیت ضرور ہے، مگر اس کی قیمت بہت زیادہ ہو سکتی ہے۔

ان کے مطابق سخت تجارتی اقدامات سے کینیڈا نہ صرف فوری طور پر آمدنی سے محروم ہوگا بلکہ اپنے سب سے بڑے تجارتی گاہک کے ساتھ طویل مدتی تعلقات کو بھی نقصان پہنچا سکتا ہے۔

امریکا متبادل تلاش کر سکتا ہے

ماہرین کے مطابق اگر کینیڈا طویل عرصے تک تیل، گیس یا اہم معدنیات کی فراہمی کو سیاسی دباؤ کے لیے استعمال کرتا ہے تو امریکا مستقبل میں متبادل سپلائرز اور نئی سپلائی چینز تلاش کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔ایسی صورت میں کینیڈا کا موجودہ تجارتی اثر و رسوخ طویل مدت میں کمزور بھی پڑ سکتا ہے۔

توانائی کی پابندی سے تنازع بڑھنے کا خدشہ

کرسٹوفر ریگن کا کہنا ہے کہ تیل، قدرتی گیس یا بجلی کی فراہمی محدود کرنے سے امریکا میں توانائی کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں اور تجارتی جنگ مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔ان کے مطابق ایسا قدم دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو کئی درجے بڑھا سکتا ہے۔

تجارتی تنوع پر توجہ کی تجویز

کئی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا کے خلاف صرف جوابی اقدامات پر انحصار کرنے کے بجائے کینیڈا کو نئی منڈیوں تک رسائی، دوسرے ممالک کے ساتھ تجارت بڑھانے اور ملکی معیشت کو مضبوط بنانے پر توجہ دینی چاہیے۔

ان کے مطابق طویل مدتی حل یہ ہوسکتا ہے کہ کینیڈا امریکی منڈی پر انحصار کم کرے اور اپنی برآمدات کے لیے نئے راستے تلاش کرے۔

کینیڈا کے سامنے مشکل فیصلہ

ماہرین کے مطابق کینیڈا اس وقت ایک مشکل صورتحال سے دوچار ہے، جہاں امریکا کو جواب دینے کے لیے سخت اقدامات کا دباؤ موجود ہے، لیکن ہر جوابی قدم کی معاشی اور سیاسی قیمت بھی ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اصل سوال یہ نہیں کہ کینیڈا امریکا کو کتنا نقصان پہنچا سکتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ کون سا اقدام امریکا کی پالیسی بدلنے میں مؤثر ہوگا اور اس کی قیمت کینیڈا کے لیے کتنی ہوگی۔

ہمیں فالو کریں