اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) بحیرۂ عمان میں امریکی فضائیہ کی کارروائی کے دوران ایک بھارتی آئل ٹینکر کو نشانہ بنائے جانے کے نتیجے میں تین بھارتی شہری ہلاک ہوگئے، جبکہ واقعے کے بعد بھارت اور امریکا کے درمیان سفارتی کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی فوج آبنائے ہرمز اور اس سے ملحقہ سمندری راستوں پر سخت نگرانی اور ناکہ بندی برقرار رکھے ہوئے ہے۔ اسی دوران ایک آئل ٹینکر، جس کے بارے میں بعد میں معلوم ہوا کہ وہ بھارتی ملکیت یا بھارتی عملے سے منسلک تھا، امریکی فورسز کی جانب سے دی جانے والی ہدایات پر عمل درآمد نہ کرسکا، جس کے بعد امریکی فضائیہ نے کارروائی کرتے ہوئے جہاز کو نشانہ بنایا۔
امریکی فوج کی مرکزی کمانڈ (سینٹکام) نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ کارروائی کے دوران جہاز کے انجن روم کو ہدف بنایا گیا تاکہ اسے مزید آگے بڑھنے سے روکا جاسکے۔ امریکی حکام کے مطابق جہاز کے عملے کو متعدد مرتبہ انتباہات جاری کیے گئے تھے، تاہم مطلوبہ ردعمل موصول نہ ہونے پر کارروائی کی گئی۔
بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق متاثرہ آئل ٹینکر پر مجموعی طور پر 28 افراد سوار تھے جن میں 24 بھارتی شہری شامل تھے۔ حملے کے فوراً بعد تین افراد لاپتا قرار دیے گئے تھے، تاہم بعد ازاں ان کی ہلاکت کی تصدیق کردی گئی۔ ہلاک ہونے والے تینوں افراد بھارتی شہری تھے۔
واقعے کے بعد بھارتی حکومت نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ وزارت خارجہ نے نئی دہلی میں امریکی سفارتی مشن کے نائب سربراہ کو طلب کرکے باضابطہ احتجاج ریکارڈ کرایا اور واقعے کی مکمل وضاحت طلب کی۔ بھارتی حکام نے اس حملے کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی سمندری راستوں پر تجارتی جہازوں کی حفاظت کو یقینی بنانا تمام ممالک کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
بھارتی وزارت خارجہ کے مطابق حکومت اپنے شہریوں کی ہلاکت کے معاملے کو سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے اور متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن مدد فراہم کی جائے گی۔ اس کے علاوہ واقعے کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات کے مطالبے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
دفاعی اور بین الاقوامی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز اور بحیرۂ عمان عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری گزرگاہیں ہیں۔ حالیہ کشیدگی کے باعث اس خطے میں فوجی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے، جس سے تجارتی جہازوں کو بھی خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق بھارتی آئل ٹینکر پر حملے کا واقعہ نہ صرف امریکا اور بھارت کے سفارتی تعلقات پر اثر انداز ہوسکتا ہے بلکہ خطے میں جاری کشیدگی کو مزید بڑھانے کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ عالمی برادری کی نظریں اب اس بات پر مرکوز ہیں کہ دونوں ممالک اس معاملے کو کس انداز میں حل کرتے ہیں اور آیا اس واقعے کی مشترکہ تحقیقات کی جاتی ہیں یا نہیں۔
واقعے کے بعد بحیرۂ عمان اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی سے وابستہ کمپنیوں نے بھی اپنی سکیورٹی حکمت عملی پر نظرثانی شروع کردی ہے، جبکہ عالمی توانائی منڈیوں میں بھی اس پیش رفت کو تشویش کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔