اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) امریکی محکمہ خزانہ نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ایران کی نو شخصیات اور اداروں پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔
پابندیوں کا مقصد ایرانی وزارت دفاع، پاسداران انقلاب اور ایرانی افواج کی اسلحہ خریداری میں معاونت روکنا بتایا گیا ہے۔محکمہ خزانہ کے مطابق یہ کارروائی ایران کو ہتھیاروں کی فراہمی میں معاونت کرنے والے نیٹ ورکس کے خلاف جاری کارروائیوں کا حصہ ہے، اور امریکہ اس سلسلے میں مزید اقدامات کرنے کا عندیہ دے رہا ہے۔اس موقع پر امریکی صدر نے بھی ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی فوج کئی محاذوں پر تقریباً مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے، اور اس کے اہم حصے جیسے کہ بحریہ اور فضائیہ عملاً ناکارہ ہو گئے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے ایسے معاہدوں پر بات چیت کرنے میں بہت زیادہ دیر کی جو ان کے لیے مفید ثابت ہو سکتے تھے، اور اب انہیں اس کی قیمت چکانی پڑے گی۔پابندیوں کے تحت ایران کی وہ شخصیات اور ادارے نشانہ بنائے گئے ہیں جو غیر قانونی اسلحہ خریداری میں معاونت فراہم کرتے ہیں، اور امریکہ نے واضح کیا ہے کہ وہ ان نیٹ ورکس کے خلاف مزید سخت کارروائیاں جاری رکھے گا۔
یہ اقدامات ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب امریکہ اور ایران کے تعلقات پہلے ہی کشیدہ ہیں اور ایران کے جوہری پروگرام اور فوجی سرگرمیوں کو لے کر بین الاقوامی سطح پر تشویش پائی جاتی ہے۔