کینیڈا کے صوبے اونٹاریو نے ایلون مسک کی کمپنی اسٹارلنک کے ساتھ 100 ملین کینیڈین ڈالر (تقریباً 68 ملین امریکی ڈالر) کا سیٹلائٹ انٹرنیٹ معاہدہ منسوخ کر دیا ہے۔
یہ فیصلہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کینیڈا کی مصنوعات پر 25 فیصد ٹیرف عائد کرنے کے جواب میں کیا گیا ہے۔ اونٹاریو کے وزیرِ توانائی اسٹیفن لیکے نے اس معاہدے کی منسوخی کی تصدیق کی ہے، تاہم منسوخی کی قیمت کے بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
اس معاہدے کے تحت اسٹارلنک کو صوبے کے دور دراز علاقوں میں 15,000 گھروں اور کاروباری اداروں کو ہائی اسپیڈ سیٹلائٹ انٹرنیٹ فراہم کرنا تھا۔ یہ معاہدہ نومبر 2024 میں طے پایا تھا اور اس کی تکمیل جون 2025 تک متوقع تھی۔
اونٹاریو کے وزیرِ اعلیٰ ڈگ فورڈ نے اس معاہدے کی منسوخی کو "اقتصادی حملے” کے جواب میں ایک "اصولی” قدم قرار دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صوبہ ان کمپنیوں کے ساتھ کاروبار نہیں کرے گا جو کینیڈا کی معیشت کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ اس کے علاوہ، فورڈ حکومت نے امریکی کمپنیوں کو صوبائی حکومت کے معاہدوں میں شرکت سے بھی روک دیا ہے۔
اس معاہدے کی منسوخی کے بعد، 15,000 گھروں اور کاروباری اداروں کو جو ہائی اسپیڈ انٹرنیٹ کی فراہمی کی امید رکھتے تھے، اب انٹرنیٹ سروس کی فراہمی میں تاخیر کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اونٹاریو حکومت نے اس خلا کو پر کرنے کے لیے متبادل حل تلاش کرنے کا عندیہ دیا ہے، تاہم اس حوالے سے ابھی تک کوئی واضح منصوبہ پیش نہیں کیا گیا۔
اس معاہدے کی منسوخی سے کینیڈا اور امریکہ کے تجارتی تعلقات میں مزید کشیدگی پیدا ہونے کا امکان ہے، خاص طور پر جب دونوں ممالک ایک دوسرے کے خلاف تجارتی پابندیاں عائد کر رہے ہیں۔ کینیڈا نے امریکی مصنوعات پر 25 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا ہے، جس سے دونوں ممالک کی معیشتوں پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔