اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)البرٹا میں مجوزہ عوامی رائے شماری میں علیحدگی کا سوال ابھی شامل نہیں کیا گیا، مگر اس کے باوجود ہفتہ کے روز صوبے بھر میں لوگوں کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی اور کینیڈا کے ساتھ رہنے کی حمایت میں زبردست اجتماع منعقد کیا۔
کیلگری سٹی ہال کے سامنے ہونے والے اس مظاہرے کی قیادت مقامی قبائلی برادری کے نمائندوں نے کی، جہاں شرکا نے واضح طور پر کہا کہ وہ ملک کی وحدت کے حق میں ہیں۔
یہ اجتماع “معاہدے ہمیشہ قائم رہتے ہیں، البرٹا کینیڈا ہے” نامی گروہ کی جانب سے منعقد کیا گیا، جو اس سے قبل فروری میں بھی ایک بڑا پروگرام کر چکا ہے۔ منتظم نکول جانسٹن نے اپنے تحریری بیان میں کہا کہ البرٹا میں ہونے والے قبائلی معاہدے محض اختیاری نہیں بلکہ آئینی طور پر محفوظ وعدے ہیں، جو فرسٹ نیشنز اور تاجِ برطانیہ کے درمیان طے پائے تھے۔ ان کے مطابق کسی بھی صورت میں صوبے کی علیحدگی کا منصوبہ ان معاہدوں کو نظر انداز نہیں کر سکتا، اور ایسا کرنے کی کوشش قانونی اور اخلاقی پیچیدگیاں پیدا کرے گی۔
نکول جانسٹن، جو معاہدہ نمبر سات سے تعلق رکھنے والی بلیک فٹ برادری کی رکن ہیں، نے کہا کہ حالیہ دنوں میں علیحدگی کی بحث کے ساتھ ان کی کمیونٹی کے خلاف رویوں میں تبدیلی آئی ہے۔ ان کے بقول نسل پرستی میں واضح اضافہ ہوا ہے اور یہ رجحان تشویشناک حد تک بڑھ چکا ہے۔
اسی دن ایڈمنٹن میں بھی کینیڈا کے حق میں ایک اور تقریب منعقد ہوئی، جہاں عوام نے ملک کے ساتھ وابستگی کا اعادہ کیا۔ دوسری جانب صوبے کی وزیر اعلیٰ ڈینیئل اسمتھ نے موسمِ خزاں میں ہونے والی عوامی رائے شماری کے لیے معلوماتی مہم کے آغاز پر اپنے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت کینیڈا کے اندر رہتے ہوئے خودمختاری کے حق میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبہ متحدہ کینیڈا کا حصہ رہتے ہوئے اپنے حقوق کا بہتر دفاع کر سکتا ہے۔
تاہم حزبِ اختلاف کے رہنما نہید نینشی نے اس پورے عمل کو سیاسی قرار دیتے ہوئے تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام پر صوبے کے عوام کے لاکھوں ڈالر خرچ ہوں گے، جبکہ پہلے ہی لاکھوں شہری ایک درخواست پر دستخط کر چکے ہیں جس میں کینیڈا کے ساتھ رہنے کی حمایت کی گئی تھی۔ ان کے مطابق یہ تاریخ کی بڑی عوامی درخواستوں میں سے ایک ہے، اور حکومت کو عوامی جذبات کا احترام کرنا چاہیے۔
ادھر البرٹا کی آزادی کے حق میں ایک اور درخواست بھی دستخطوں کے لیے پیش کی گئی ہے، مگر اس پر فی الحال عدالت کی جانب سے عارضی پابندی عائد ہے۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ وہ آنے والے مہینوں میں بھی ایسے اجتماعات جاری رکھیں گے تاکہ عوام کو آگاہی فراہم کی جا سکے اور مختلف برادریوں کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ دیا جا سکے۔
یاد رہے کہ صوبے میں عوامی رائے شماری انیس اکتوبر کو متوقع ہے، جس کے پیش نظر سیاسی اور سماجی سرگرمیوں میں تیزی آ چکی ہے۔