اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)کینیڈا کی وفاقی حکومت ویزا ہولڈرز کے گروپس کی درخواستیں منسوخ کرنے کے اختیارات حاصل کرنا چاہتی ہے، جس کی ایک بڑی وجہ بھارت اور بنگلہ دیش سے سامنے آنے والے جعلی ویزا کیسز بتائی جا رہی ہےیہ انکشاف ایک دستاویزات میں ہوا ہے۔
ایک محکماتی پریزنٹیشن کے مطابق، امیگریشن، ریفیوجیز اینڈ سٹیزن شپ کینیڈا (IRCC)، کینیڈا بارڈر سروسز ایجنسی (CBSA) اور نامعلوم امریکی ادارے مل کر ایسے گروپس کی شناخت اور ویزے منسوخ کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں جن کے بارے میں جعلسازی کا شبہ ہے۔
دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ یہ ادارے ایک ورکنگ گروپ بنا چکے ہیں جو حکومت کو ویزے مسترد یا منسوخ کرنے کے وسیع اختیارات دینے پر کام کر رہا ہے۔ پریزنٹیشن میں بھارت اور بنگلہ دیش کو "ملک-خصوصی چیلنجز” (country-specific challenges) کے طور پر ذکر کیا گیا ہے۔
اگرچہ عوامی سطح پر امیگریشن وزیر لینا ڈیاب نے کہا تھا کہ حکومت یہ اختیارات صرف وبا یا جنگ جیسی غیر معمولی صورتِ حال کے لیے چاہتی ہے، لیکن دستاویزات ظاہر کرتی ہیں کہ ملک-خصوصی خدشات بھی اس پالیسی کے پیچھے اہم وجہ ہیں۔
یہ شق پارلیمنٹ میں بل C-2 کے تحت پیش کی گئی تھی، جو بعد میں دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ اجتماعی ویزا منسوخی سے متعلق حصہ اب بل C-12 میں شامل ہے، جسے حکومت جلد منظور کرانے کی خواہاں ہے۔
تاہم 300 سے زائد شہری تنظیموں نے اس قانون پر تحفظات ظاہر کیے ہیں۔مائیگرنٹ رائٹس نیٹ ورک جیسے گروپوں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام حکومت کو ایک "اجتماعی ملک بدری کا نظام” بنانے کے اختیارات دے سکتا ہے۔
امیگریشن وکلا نے بھی خدشہ ظاہر کیا ہے کہ حکومت یہ اختیارات اپنے درخواستوں کے بڑھتے ہوئے بیک لاگ کو کم کرنے کے لیے استعمال کر سکتی ہے۔
دستاویز کے مطابق، بھارتی شہریوں کی پناہ گزینی کی درخواستیں مئی 2023 میں ماہانہ 500 سے کم تھیں جو جولائی 2024 تک 2,000 فی ماہ ہو گئیں۔
مزید بتایا گیا ہے کہ بھارت سے آنے والی عارضی رہائش (Temporary Resident Visa) کی درخواستوں کی تصدیق کے عمل نے کارروائی کی رفتار کم کر دی ہے —
جولائی 2023 میں اوسط کارروائی کا وقت 30 دن تھا، جو ایک سال بعد 54 دن تک پہنچ گیا۔
اسی دوران، منظوریوں کی تعداد بھی گھٹ گئی — جنوری 2024 میں 63,000 سے زائد تھی جو جون میں 48,000 رہ گئی۔
پریزنٹیشن میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ بھارت سے سفر کے دوران نو بورڈز (یعنی جنہیں پرواز پر سوار ہونے سے روکا گیا) کے واقعات میں اضافہ ہوا۔
31 جولائی 2024 تک 1,873 درخواست گزاروں کو مزید تفتیش کے لیے منتخب کیا گیا اور انہیں ان کے قانونی حقوق سے متعلق خط بھیجا گیا۔