اردوورلڈ کینیڈا( ویب نیوز)جیسے جیسے تعطیلات کا موسم قریب آ رہا ہے، کینیڈا کے کئی نوجوان تحفوں کے اخراجات پورے کرنے کے لیے کریڈٹ کارڈز اور دیگر ادھار ذرائع پر انحصار کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
چارٹرڈ پروفیشنل اکاؤنٹنٹس (CPA) کینیڈا کے ایک تازہ سروے کے مطابق 18 سے 34 سال کے 58 فیصد افراد کا کہنا ہے کہ وہ اس سال کی چھٹیوں کی خریداری کریڈٹ کے ذریعے کریں گے۔
اس کے برعکس، بڑی عمر کے کینیڈین ایک محتاط حکمتِ عملی اختیار کر رہے ہیں۔ سروے میں بتایا گیا کہ 55 سال اور اس سے زائد عمر کے تقریباً 70 فیصد افراد اپنے ذاتی پیسے سے خریداری کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔
مجموعی طور پر، دو تہائی کینیڈینز نے کہا کہ وہ اس سال بھی تعطیلات کے اخراجات اپنی جیب سے ادا کرنے کو ترجیح دیں گے۔
CPA کینیڈا کے چیف اکانومسٹ ڈیوڈ الیگزاندر براسارڈ کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار نوجوان کینیڈینز پر بڑھتے ہوئے مالی دباؤ کی عکاسی کرتے ہیں۔
انہوں نے کہابے روزگاری کی شرح کساد بازاری کے قریب ہے۔ نوجوانوں کے لیے یہ سال خاصا مشکل رہا ہے، اسی لیے وہ چھٹیوں کا خرچ پورا کرنے کے لیے زیادہ تر کریڈٹ کارڈز اور قرض پر انحصار کرتے ہیں۔‘‘
مہنگائی بھی اس رجحان کو بڑھا رہی ہے۔ ایک طالب علم نے بتایا کہ روزمرہ کی ضروریات—جیسے کپڑے، زیورات اور خوراک—اب پہلے سے زیادہ مہنگی ہو گئی ہیں۔
مہنگائی کی وجہ سے عام چیزیں بھی اب کافی زیادہ خرچ مانگتی ہیں انہوں نے کہاچیلنجز کے باوجود، اس سال کینیڈین صارفین مجموعی طور پر گزشتہ سال کی نسبت 10 فیصد زیادہ خرچ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ایک خریدار نے بتایا کہ وہ اپنے بڑے خاندان کے تحفے پورے کرنے کے لیے تقریباً 1,000 ڈالر خرچ کرے گی، لیکن وہ کریڈٹ کی بجائے ڈیبٹ کارڈ استعمال کرے گی۔
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ بڑھتی قیمتوں کے باعث لوگ غیر ضروری حد تک خرچ کر سکتے ہیں۔ "منی مینٹرز” کی سی ای او اسٹیسی یانچک اولیکسی نے مشورہ دیا کہ خریدار بجٹ پر قائم رہنے کے لیے نقد رقم کا استعمال کریں۔
انہوں نے کہا، ’’میں مشورہ دوں گی کہ لوگ اے ٹی ایم سے نقد رقم نکال کر خریداری کریں۔ جیسے ہی ہم کارڈ استعمال کرتے ہیں—چاہے ڈیبٹ ہو یا کریڈٹ ہم عموماً زیادہ خرچ کر بیٹھتے ہیں۔