اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)وفاقی آئینی عدالت نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے پانچ ججز کی جانب سے انٹرا کورٹ اپیلیں سپریم کورٹ کو واپس بھیجنے کی درخواست خارج کر دی۔ چیف جسٹس امین الدین کی سربراہی میں چھ رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، تاہم درخواست گزار ججز کی جانب سے کوئی وکیل پیش نہیں ہوا۔
عدالت نے لاہور ہائیکورٹ بار اور سابق وزیراعظم عمران خان کے علاوہ تمام دیگر اپیل کنندگان کی درخواستیں نمٹا دیں۔ جن ججز کی اپیلیں زیرِ بحث تھیں ان میں جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس بابر ستار، جسٹس سردار اعجاز اسحٰق خان، جسٹس ثمن رفعت امتیاز اور جسٹس طارق محمود جہانگیری شامل ہیں۔
یہ تمام ججز اس فیصلے کو چیلنج کر رہے تھے جس کے تحت ان کی انٹرا کورٹ اپیلیں سپریم کورٹ سے اٹھا کر وفاقی آئینی عدالت کو بھجوائی گئی تھیں۔ درخواست گزاروں کا مؤقف تھا کہ معاملہ بنیادی طور پر سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے اور آئینی عدالت کو منتقل کیے جانے کا فیصلہ درست نہیں۔
پس منظر کے مطابق، یہ تنازع دیگر ہائی کورٹس کے تین ججز کے اسلام آباد میں تبادلے سے شروع ہوا تھا۔ سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے جون میں اپنے فیصلے میں قرار دیا تھا کہ یہ تبادلے غیر آئینی نہیں ہیں۔ بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ کے مذکورہ ججز نے اسی فیصلے کیخلاف انٹرا کورٹ اپیلیں دائر کر دی تھیں۔
27ویں آئینی ترمیم کے بعد قائم کی جانے والی وفاقی آئینی عدالت نے یہ اپیلیں سماعت کے لیے مقرر کی تھیں۔ ججز کی جانب سے دائر متفرق درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ ترمیم خود آئین سے متصادم ہے، اس لیے اپیلوں کو واپس سپریم کورٹ بھیجا جائے۔ تاہم بینچ نے یہ مؤقف تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے درخواست خارج کر دی۔