اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)وائٹ ہاؤس کے قریب ہونے والے فائرنگ کے واقعے میں دو نیشنل گارڈ اہلکار زخمی ہو گئے ہیں، جس کے بعد وائٹ ہاؤس کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی امدادی ٹیمیں اور سکیورٹی اہلکار موقع پر پہنچ گئے اور ایک مشتبہ شخص کو زخمی حالت میں حراست میں لے لیا گیا۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیوٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو واقعے کی فوری بریفنگ دی گئی اور وہ حالات کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں۔ امریکی ہوم لینڈ سکیورٹی نے بھی تصدیق کی کہ مختلف ایجنسیاں واقعے سے متعلق معلومات اکٹھی کر رہی ہیں۔
صدر ٹرمپ نے حملے پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے دہشت گردی قرار دیا اور کہا کہ نیشنل گارڈز پر حملہ کرنے والے کو بھاری قیمت چکانا ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ نفرت اور برائی کی علامت ہے اور وائٹ ہاؤس سے چند قدم کے فاصلے پر گارڈز پر فائرنگ کی گئی۔
رونالڈ ریگن نیشنل ایئرپورٹ پر پروازیں عارضی طور پر روک دی گئیں، تاہم چند گھنٹوں بعد معمول کی کارروائیاں بحال کر دی گئیں پولیس کے مطابق مشتبہ حملہ آور کی شناخت 29 سالہ افغان شہری رحمان اللہ لکنوال کے طور پر ہوئی ہے، جو 2021 میں امریکہ آیا تھا۔ مشتبہ شخص کو واقعے کے بعد گرفتار کر لیا گیا ہے اور مزید تحقیقات جاری ہیں۔