اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) کینیڈا کے شہر وینکوور میں ایئر انڈیا کی ایک بین الاقوامی پرواز اس وقت تاخیر کا شکار ہو گئی
جب پرواز کے ایک پائلٹ کو نشے کی حالت میں ہونے کے شبے میں طیارے سے اُتار دیا گیا۔اس واقعے نے ایئرلائن کی حفاظت کے بارے میں کئی سوالات اٹھا دیے ہیں اور اس کی مکمل تحقیقات کا عمل جاری ہے۔ایئر انڈیا کی پرواز AI186 جب روانگی کی تیاری کر رہی تھی، تو ایئرپورٹ پر موجود عملے کے ایک رکن نے پائلٹ کو شراب خریدتے ہوئے دیکھا۔ عملے کے رکن نے فوراً اس معاملے کی اطلاع ایئرپورٹ حکام کو دی، جس پر کینیڈیائی حکام نے پائلٹ کا معائنہ شروع کیا۔ معائنے کے دوران پائلٹ سے شراب کی بُو محسوس ہوئی، جس کے بعد اس کا بریَتھ اینالائزر ٹیسٹ کیا گیا۔
ٹیسٹ میں پائلٹ مطلوبہ معیار پر پورا نہیں اُتر سکا اور حکام نے اسے اپنی تحویل میں لے لیا۔ ایئر انڈیا کی ترجمان نے اس بات کی تصدیق کی کہ پائلٹ کی حالت کو دیکھتے ہوئے اسے فوری طور پر پرواز سے اُتار دیا گیا اور مسافروں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے متبادل پائلٹ کا انتظام کیا گیا۔ تاہم، نئے پائلٹ کی تعیناتی میں وقت لگنے کی وجہ سے پرواز تاخیر کا شکار ہوئی اور روانگی میں کچھ دیر ہو گئی۔
ترجمان کے مطابق، ایئر انڈیا نے اس واقعے کو سنجیدگی سے لیا ہے اور اس کی تحقیقات جاری ہیں۔ ایئرلائن نے واضح کیا کہ اس کے حفاظتی ضوابط کے تحت ایسی کسی بھی غفلت کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا اور اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ مسافروں کی حفاظت اولین ترجیح ہو۔
ایئر انڈیا نے یہ بھی اعلان کیا کہ جب تک تحقیقات مکمل نہیں ہو جاتیں، اس پائلٹ کو عارضی طور پر ڈیوٹی سے ہٹا دیا گیا ہے۔ اس واقعے نے نہ صرف ایئر انڈیا کے عملے کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں پر سوالات اٹھائے ہیں بلکہ ایئر لائنز کے لیے یہ ایک اہم سبق بھی ہے کہ پروازوں سے پہلے پائلٹس اور دیگر عملے کی صحت اور حالت کا معائنہ کرنا لازمی ہے۔کینیڈا کے حکام نے اس واقعے کو سنجیدگی سے لیا اور ایئرپورٹ کے حفاظتی ضوابط کو مزید سخت کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ پائلٹس کے لیے یہ بھی ایک یاد دہانی ہے کہ ان کی ذمہ داری صرف طیارے کی پرواز تک محدود نہیں ہے، بلکہ ان کی جسمانی اور ذہنی حالت بھی مکمل طور پر ٹھیک ہونی چاہیے تاکہ وہ مسافروں کی حفاظت کو یقینی بنا سکیں۔
ایئر انڈیا نے اس حادثے کے بعد مسافروں کو اعتماد دلانے کے لیے کہا ہے کہ ان کی کمپنی کی پالیسیوں کے مطابق اس قسم کے واقعات کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں گے۔ یہ واقعہ ایک اہم سبق ہے کہ ہوا بازی کی صنعت میں حفاظتی اقدامات کو کبھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔اس وقت ایئر انڈیا کے ترجمان نے مزید کہا کہ جب تک تحقیقات مکمل نہیں ہو جاتیں، اس پائلٹ کی شناخت ظاہر نہیں کی جائے گی۔ تاہم، ان کے مطابق کمپنی اس واقعے کی ہر پہلو سے جانچ کرے گی تاکہ مستقبل میں ایسی صورتحال سے بچا جا سکے۔