اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے صوبے البرٹا میں علیحدگی کے مسئلے پر پریمیئر ڈینیئل اسمتھ اور ان ہی کی جماعت یونائیٹڈ کنزرویٹو پارٹی کے درمیان پیدا ہونے والا اختلاف ختم ہوگیا، اور اس معاملے میں وزیرِاعلیٰ کا مؤقف غالب آگیا۔
ڈینیئل اسمتھ نے واضح کیا ہے کہ ان کی حکومت، جماعت اور پارلیمانی اراکین کی سرکاری پالیسی یہ ہے کہ البرٹا کو متحدہ کینیڈا کا حصہ رہنا چاہیے۔ اس سے قبل جماعت کے صدر روب اسمتھ نے کہا تھا کہ جماعت آئندہ ریفرنڈم میں کسی ایک مؤقف کی حمایت نہیں کرے گی۔
وزیرِاعلیٰ نے ریڈیو گفتگو میں کہا کہ جماعت کے بنیادی اصولوں میں ہمیشہ یہ شامل رہا ہے کہ البرٹا کو متحدہ کینیڈا کے اندر خودمختاری حاصل ہونی چاہیے، نہ کہ علیحدگی۔ ان کے مطابق تمام حکومتی ارکان اسی منشور پر منتخب ہو کر آئے تھے۔
بعد ازاں جماعت نے بھی نیا بیان جاری کرتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ البرٹا کے کینیڈا میں رہنے کی حامی ہے اور یہی اس کی ابتدا سے پالیسی رہی ہے۔
گزشتہ ہفتے ڈینیئل اسمتھ نے اعلان کیا تھا کہ ۱۹ اکتوبر کو عوام سے ریفرنڈم میں پوچھا جائے گا کہ آیا البرٹا کینیڈا میں رہے یا علیحدگی کے لیے دوسرے اور لازمی عوامی ریفرنڈم کی کارروائی شروع کی جائے۔ اس اعلان کے بعد پورے ملک میں سیاسی بحث شدت اختیار کر گئی۔
وزیرِاعلیٰ کا کہنا ہے کہ ریفرنڈم سے علیحدگی کے حامیوں کو اپنی رائے دینے کا موقع ملے گا اور معاملہ ہمیشہ کے لیے طے ہوسکے گا، تاہم ناقدین کے مطابق یہ قدم خطرناک ہے اور اس کے غیر متوقع نتائج سامنے آسکتے ہیں۔ مخالف جماعت نیو ڈیموکریٹک پارٹی نے الزام لگایا کہ وزیرِاعلیٰ اپنی سیاسی حمایت برقرار رکھنے کے لیے علیحدگی پسند حلقوں کو خوش کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
ڈینیئل اسمتھ نے یہ بھی کہا کہ علیحدگی کے حامی شاید نئے ملک کے قیام کے عملی اخراجات سے پوری طرح آگاہ نہیں۔ ان کے مطابق نئی فوج، سرحدی نظام اور سفری دستاویزات جیسے معاملات بڑے مسائل پیدا کرسکتے ہیں۔ انہوں نے برطانیہ کے یورپی اتحاد سے اخراج کے تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے کے بعد کئی عملی مشکلات سامنے آئیں۔
دوسری جانب وفاقی جماعت نیو ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما آوی لیوس نے وزیرِاعلیٰ کے مؤقف کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ریفرنڈم ایک غیر ضروری اور مبہم سیاسی عمل بن چکا ہے جس کی اکثریت حمایت نہیں کرتی۔
وزیرِاعلیٰ نے وفاقی ماحولیاتی پالیسیوں اور تیل و گیس کی صنعت پر تنقید کرنے والے سیاست دانوں کو بھی علیحدگی پسند جذبات بڑھانے کا ذمہ دار قرار دیا۔ ان کے مطابق البرٹا کی توانائی کی صنعت کو مسلسل نشانہ بنانے سے صوبے میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔