اردوورلڈکینیڈ(ویب نیوز)سال 2025 کے اختتام اور 2026 کے آغاز کے ساتھ ہی کینیڈا بھر میں خریداروں کے ذہنوں میں خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتیں بدستور سرفہرست مسئلہ بنی ہوئی ہیں۔ مہنگائی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والی اشیاء میں گوشت نمایاں ہے، جس کے باعث کئی صارفین اب بعض مصنوعات خریدنے سے گریز کر رہے ہیں یا متبادل تلاش کر رہے ہیں۔
لوئر مین لینڈ کے ایک گروسری خریدار کا کہنا ہے کہ اس کی خریداری کی عادات میں سب سے بڑی تبدیلی گوشت کے معاملے میں آئی ہے۔میری خریداری میں کوئی خاص فرق نہیں آیا، سوائے گوشت کے۔ جب میں گوشت کے حصے میں جاتا ہوں تو قیمتیں 10 سے 15 ڈالر تک زیادہ ہوتی ہیں، جو میری عادت سے کہیں زیادہ ہیں۔ اس لیے میں اب اسے خریدنے سے بچتا ہوں۔”
دوسری جانب کچھ خریدار مہنگائی کا مقابلہ کرنے کے لیے مختلف دکانوں کے چکر لگا رہے ہیں تاکہ کم قیمت پر اشیاء حاصل کی جا سکیں۔ ایک اور خریدار کے مطابق،
“میں یہاں سیو آن فوڈز (Save-On Foods) سے خریداری کر سکتا ہوں، لیکن اگر مجھے قیمتیں زیادہ لگیں تو میں دو بلاک دور نو فریلرز (No Frills) چلا جاتا ہوں اور وہاں سے اپنی ضرورت کے مطابق سامان خرید لیتا ہوں۔”
اسی دوران کینیڈا کی گروسری انڈسٹری میں ایک نئے دور کا آغاز ہونے جا رہا ہے۔ جمعرات سے رضاکارانہ گروسری کوڈ آف کنڈکٹ نافذ کیا جا رہا ہے، جو گروسری اسٹورز، سپلائرز، ہول سیلرز اور بنیادی پیداوار کرنے والوں پر لاگو ہوگا۔ کینیڈا کے پانچ بڑے گروسری ریٹیلرز پہلے ہی اس ضابطۂ اخلاق کے تحت رجسٹر ہو چکے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد شعبے میں شفافیت، انصاف اور پیش گوئی کے قابل نظام کو فروغ دینا ہے۔ڈلہوزی یونیورسٹی کے ایگری فوڈ اینالیٹکس لیب کے ڈائریکٹر، سلویئن شارلیبوا کے مطابق،اگر یہ کوڈ مؤثر ثابت ہوتا ہے تو خوراک کی سپلائی چین میں مسابقت بڑھے گی، کیونکہ سپلائرز اور فوڈ مینوفیکچررز کو زیادہ تحفظ حاصل ہوگا۔”
تاہم ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ یہ کوڈ کوئی جادوئی حل نہیں۔ یہ نہ تو گروسری کی قیمتوں کو براہِ راست کنٹرول کرتا ہے اور نہ ہی فوری طور پر کیش کاؤنٹر پر ریلیف کی ضمانت دیتا ہے۔ اس کے باوجود حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام طویل مدت میں سپلائی چین کو مستحکم کر سکتا ہے، کیونکہ اس سے غیر متوقع فیسوں، تنازعات اور مسائل میں کمی آئے گی جو دستیابی، مسابقت اور صارفین کے انتخاب کو متاثر کرتے ہیں۔
شارلیبوا کے مطابق یہ ایک بہت بڑا قدم ہے جس کی ہمیں ضرورت ہے تاکہ کینیڈا میں مسابقت بڑھے اور صارفین کے پاس زیادہ انتخاب ہوں۔ جب انتخاب بڑھتا ہے تو عموماً قیمتیں نیچے آنے لگتی ہیں۔”
اگرچہ مستقبل میں زیادہ مسابقت کی امید کی جا رہی ہے، تاہم ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ 2026 میں بھی کینیڈین شہریوں کو گروسری اسٹورز پر مہنگائی کا سامنا رہے گا۔ اندازوں کے مطابق چار افراد پر مشتمل ایک اوسط خاندان 2026 میں 2025 کے مقابلے میں تقریباً ایک ہزار ڈالر زیادہ خرچ کرے گا، جو بڑھتی ہوئی خوراک کی قیمتوں کے اثرات کو واضح طور پر ظاہر کرتا ہے۔