اردوورلڈ کینیڈا(ویب نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورز کی گرفتاری کے بعد کہا ہے کہ امریکا اقتدار کی منتقلی تک وینزویلا کے معاملات خود سنبھالے گا۔
ٹرمپ نے اس دوران ماریہ کورینا ماچادو کے نام کو وینزویلا کی قیادت کے لیے زیر غور لانے کا عندیہ بھی دیا،ٹرمپ نے کہا کہ امریکی فوج نے مادورو کی گرفتاری کے لیے انتہائی منصوبہ بندی کے ساتھ زمینی، فضائی اور بحری آپریشن کیا، جسے انہوں نے تاریخ کا بہترین فوجی آپریشن قرار دیا۔
انہوں نے بتایا کہ کاراکاس میں آپریشن کے دوران بجلی بند کر دی گئی تھی اور امریکی فوج کے کسی اہلکار کو نقصان نہیں پہنچا۔صدر ٹرمپ نے مادورو کو گزشتہ ہفتے سرنڈر کرنے کی ہدایت دی تھی اور ان کا کہنا تھا کہ مادورو کا دور حکومت شرمناک تھا۔
انہوں نے کہا کہ امریکا نے منشیات کی جنگ میں لاکھوں افراد کھو دیے ہیں اور اس آپریشن کا مقصد وینزویلا سے منشیات کی سمگلنگ کو روکنا ہے، جس میں مادورو ملوث تھا۔ٹرمپ نے واضح کیا کہ وینزویلا کے عوام آزاد اور خودمختار ہیں اور امریکا ان کی بہتری چاہتا ہے، کسی کو ظلم کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ امریکا کی آئل کمپنیز وینزویلا میں داخل ہو کر تباہ شدہ تیل کی صنعت کی بحالی اور ذخائر سے فائدہ اٹھائیں گی، جبکہ امریکی پابندیاں برقرار رہیں گی۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ وینزویلا میں آپریشن کا مقصد ڈکٹیٹر مادورو کو انصاف کے کٹہرے میں لانا ہے اور جو بھی امریکی سلامتی کے خلاف اقدامات کرے، وہ اس آپریشن کو دیکھ کر سبق سیکھے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ وینزویلا کے تیل کی آمدنی منشیات اور دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہی تھی اور امریکا کے پاس مادورو کے خلاف جرائم کے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔یہ کارروائی عالمی سطح پر وینزویلا کی سیاسی صورتحال میں ایک اہم موڑ کے طور پر دیکھی جا رہی ہے، اور اس کے اثرات خطے اور بین الاقوامی تعلقات پر مرتب ہونے کا امکان ہے۔