اوٹاوا میں وینزویلا بحران پر مظاہرے، امریکا کی مداخلت پر کینیڈا سے حقِ خودارادیت کی حمایت کا مطالبہ

اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز) متعدد ممالک نے امریکی کارروائی کے نتیجے میں وینزویلا کے صدر نیکولس مادورو کی معزولی کی مذمت کی، تو اتوار کے روز اوٹاوا میں امریکی سفارت خانے کے سامنے مظاہرین نے کینیڈین حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ وینزویلا کے عوام کے حقِ خود ارادیت کی حمایت کرے اور امریکا اس معاملے سے پیچھے ہٹ جائے۔

مظاہرین میں شامل ایمانوئیل گالیگیویوس-کوٹے نے کہا کہ یہ فوجی کارروائی امریکا کی اس طویل پالیسی کا تازہ باب ہے، جس کے تحت وہ لاطینی امریکا کو وسائل کے حصول کے لیے “اپنا پچھواڑا” سمجھتا رہا ہے۔

مظاہرین نے مادورو کے حق میں نعرے لگائے اور کہا کہ کینیڈا اور وزیر اعظم مارک کارنی کو ان کی حمایت کرنی چاہیے، جبکہ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف بھی نعرے بازی کی، جن پر خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔

گالیگیویوس-کوٹے نے کہا، “(امریکا) سمجھتا ہے کہ یہ وسائل اس کے ہیں، حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ یہ عوام کی ملکیت ہیں، اور یہ عوام کا حق ہے کہ وہ اپنے حقِ خود ارادیت کے تحت خود حکومت کریں، نہ کہ امریکا مداخلت کرے۔”

اتوار کے روز وزیر اعظم مارک کارنی نے وینزویلا کی اپوزیشن رہنما اور نوبل امن انعام یافتہ ماریا کورینا ماچاڈو سے گفتگو کی۔ وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق، دونوں رہنماؤں نے “وینزویلا میں آزادی، جمہوریت، امن اور خوشحالی کے اس موقع سے فائدہ اٹھانے کی اہمیت” پر زور دیا۔ بیان میں مادورو کے “ظالمانہ، مجرمانہ اور غیر قانونی اقتدار” کی بھی مذمت کی گئی۔

ہفتے کے روز وینزویلا کی اعلیٰ عدالت نے ڈیلسی روڈریگز، جو 2018 سے مادورو کی نائب صدر تھیں، کو عبوری صدر مقرر کرنے کا حکم دیا۔

اوٹاوا میں جوابی مظاہرے میں شامل ڈیانا ریزو، جو 2014 میں وینزویلا سے کینیڈا منتقل ہوئیں، نے کہا کہ انہیں یہ سمجھ نہیں آتا کہ لوگ مادورو کی حمایت میں سڑکوں پر کیوں نکل رہے ہیں، جنہوں نے ان کے بقول ملک اور اپنے مخالفین کو شدید نقصان پہنچایا۔

انہوں نے کہا، “میں نے کئی سال اپنے وطن واپس جانے کی امید کے بغیر گزارے، اور اب پہلی بار مجھے امید نظر آ رہی ہے۔”

کیوبیک سٹی میں 25 برس سے مقیم کلاڈیا کیریرا نے کہا کہ ان جیسے وینزویلا کے شہری “کسی معجزے کے منتظر” تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ چاہتی ہیں کہ امریکا کچھ عرصہ وہاں موجود رہے، اس کے بعد اقتدار عوام کے حوالے کیا جائے۔

انہوں نے کہا، “ہم نے ہڑتالیں کیں، مظاہرے کیے، جمہوری انتخابات کے ذریعے جمہوری زندگی کی کوشش کی، مگر کچھ بھی کامیاب نہ ہوا۔ ہماری واحد امید یہ تھی کہ باہر سے کوئی ہماری مدد کو آئے۔”

مادورو کی گرفتاری کے چند گھنٹوں بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ قیادت کے خلا سے فائدہ اٹھا کر وینزویلا کے تیل کے بنیادی ڈھانچے کو ‘درست’ کریں گے اور بڑی مقدار میں تیل دیگر ممالک کو فروخت کریں گے۔

تاہم امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اتوار کے روز اپنے بیان میں کچھ پسپائی اختیار کرتے ہوئے کہا کہ امریکا وینزویلا کی روزمرہ حکمرانی میں کوئی کردار ادا نہیں کرے گا، سوائے اس کے کہ وہ ملک پر عائد موجودہ “آئل قرنطینہ” نافذ کرے گا۔

میکسیکو اور اسپین سمیت چھ ممالک نے اتوار کو ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے امریکی اقدامات کی مذمت کی اور کہا کہ یہ امن اور علاقائی سلامتی کے لیے خطرناک مثال قائم کرتے ہیں۔

بیان میں کہا گیا، “ہم اس بات پر زور دیتے ہیں کہ وینزویلا کی صورتحال کا حل صرف پرامن ذرائع، مکالمے، مذاکرات اور وینزویلا کے عوام کی خواہشات کے احترام کے ذریعے ہونا چاہیے، بغیر کسی بیرونی مداخلت اور بین الاقوامی قانون کے مطابق۔”

بیان میں قدرتی یا اسٹریٹجک وسائل پر بیرونی قبضے یا کنٹرول کی کسی بھی کوشش پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ یہ بین الاقوامی قانون کے منافی اور خطے کے سیاسی، معاشی اور سماجی استحکام کے لیے خطرہ ہے۔

وزیر اعظم کارنی نے ہفتے کے روز مادورو کی معزولی پر ردِعمل دیتے ہوئے یاد دلایا کہ ان کی حکومت نے مارچ میں اپنے پہلے اقدامات میں مادورو کے “ظالمانہ اور مجرمانہ اقتدار” پر اضافی پابندیاں عائد کی تھیں۔

سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کارنی نے کہا کہ کینیڈا نے 2018 کے انتخابات “چوری کیے جانے” کے بعد سے مادورو کے “غیر قانونی اقتدار” کو تسلیم نہیں کیا۔ تاہم انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کینیڈا ہمیشہ وینزویلا کے عوام کی قیادت میں، پرامن اور مذاکرات پر مبنی انتقالِ اقتدار کے عمل کی حمایت کرتا رہا ہے اور تمام فریقین سے بین الاقوامی قانون کے احترام کا مطالبہ کرتا ہے۔

انہوں نے کہا، “ہم وینزویلا کے عوام کے اس خودمختار حق کے ساتھ کھڑے ہیں کہ وہ ایک پرامن اور جمہوری معاشرے میں اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کریں۔”

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں