اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)سابق وفاقی وزیر فواد چودھری نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اصل رہنما قید میں ہیں اور ملکی سیاسی استحکام کے لیے مذاکرات اور تعاون ناگزیر ہیں۔ انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فواد چودھری نے کہا کہ مذاکرات کی ضرورت اس لیے ہے کیونکہ ملک متعدد سیاسی اور معاشی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان میں سیاسی ہیجان پھیلا ہوا ہے اور اپوزیشن کی جانب سے بھی کوئی سنجیدہ موقف سامنے نہیں آ رہا۔ فواد چودھری نے کہا کہ جو لوگ مذاکرات کرنا چاہتے ہیں وہ جیلوں میں ہیں، جبکہ پارٹی کے "مہمان اداکار” مذاکرات کے حق میں نہیں ہیں اور بعض بیرون ملک دوروں پر مصروف ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسی وجہ سے سیاسی پریشر بڑھ رہا ہے اور حکومت کو چاہیے کہ سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے، بشریٰ بی بی اور یاسمین راشد سمیت دیگر کارکنان کو رہا کر کے کشیدگی کم کی جائے۔
سابق وفاقی وزیر نے نوازشریف کو ملک کے سیاسی استحکام کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا 50 سالہ سیاسی کیریئر اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ ملک میں مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں۔ فواد چودھری نے صدر مملکت اور وزیراعظم سے بھی اپیل کی کہ وہ ملکی معاملات میں "آنر شپ” کا مظاہرہ کریں اور سیاسی اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کریں تاکہ عام عوام کو نقصان نہ پہنچے۔
انہوں نے معیشت کی سنگینی کی طرف بھی اشارہ کیا، کہا کہ حکومت کے حالیہ ہاؤس ہولڈ سروے کے مطابق ملک میں 30 فیصد افراد تین وقت کا کھانا نہیں کھا سکتے۔ ریئل اسٹیٹ اور دیگر شعبے مندی کا شکار ہیں، ادائیگیاں بڑھ چکی ہیں، تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس 40 فیصد پہنچ گیا ہے اور اوورسیز پاکستانی سرمایہ کاری کرنے سے گریزاں ہیں۔
فواد چودھری نے سیاسی قیادت پر زور دیا کہ وہ عوام کے قریب آئیں اور سیاسی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اقدامات کریں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک شدید معاشی مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔
انسداد دہشت گردی عدالت نے فواد چودھری کی عبوری ضمانت میں 13 فروری تک توسیع کر دی ہے۔ اے ٹی سی کے جج منظر علی گل نے 9 مئی کو جلاؤ گھیراؤ کے پانچ مقدمات کی سماعت کی، جن میں فواد چودھری اپنے وکلاء کے ہمراہ پیش ہوئے۔ عدالت نے پراسکیوشن سے مقدمات کا ریکارڈ طلب کر لیا۔ یاد رہے کہ فواد چودھری پر جناح ہاؤس چوک میں گاڑی جلانے اور شیر پاؤ پل جلاؤ گھیراؤ کے مقدمات بھی درج ہیں۔