اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے بھاٹی گیٹ واقعے کے حوالے سے متاثرہ خاندان سے معافی مانگ لی ہے۔ واقعہ گزشتہ روز داتا دربار کے مرکزی دروازے کے قریب پیش آیا، جہاں سعدیہ نامی خاتون اپنی نو ماہ کی شیر خوار بچی کے ساتھ کھلے مین ہول میں گر گئی۔ اس حادثے نے مقامی لوگوں اور سوشل میڈیا پر شدید تشویش پیدا کی، اور اہل خانہ نے فوری طور پر احتجاج کیا۔
ابتدائی طور پر وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے ایک بیان میں کہا کہ ریسکیو ٹیم نے علاقے کا جائزہ لیا ہے اور انہیں کسی قسم کے شواہد نہیں ملے، جس کے بعد انہوں نے اس واقعے کو فیک نیوز قرار دیا۔ تاہم، متاثرہ خاندان کے احتجاج اور عوامی دباؤ کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب نے نوٹس لیتے ہوئے ریسکیو آپریشن دوبارہ شروع کرنے کی ہدایت دی۔ اس آپریشن کے دوران تین کلومیٹر فاصلے سے سعدیہ اور اس کی بچی کی لاشیں کئی گھنٹوں بعد برآمد ہوئیں، جس نے حادثے کی سنگینی کو واضح کر دیا۔
واقعے نے نہ صرف اہل خانہ بلکہ عام شہریوں میں بھی شدید غم و غصہ پیدا کیا اور حکومت پر سیکیورٹی اور شہری سہولیات کی کمی کے حوالے سے تنقید کی گئی۔ متاثرہ خاندان نے کہا کہ اگر ابتدائی طور پر مناسب کارروائی کی جاتی تو یہ نقصان روکا جا سکتا تھا۔ وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے بعد میں عوامی اور متاثرہ خاندان کے جذبات کو مدنظر رکھتے ہوئے معافی مانگی اور اس بات پر زور دیا کہ آئندہ ایسے افسوسناک حادثات کی روک تھام کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔
یہ واقعہ شہری سکیورٹی، مین ہول اور دیگر بنیادی سہولیات کی نگرانی کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ حکام نے یقین دلایا کہ متاثرہ خاندان کو ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا اور مستقبل میں عوام کی حفاظت کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں گے تاکہ ایسے سانحات دوبارہ نہ ہوں۔