اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) پاکستان نے سرحد پار دہشت گردی کے بڑھتے خطرات کے پیش نظر افغانستان کے
مشرقی علاقوں میں ایک بڑا انٹیلی جنس بیسڈ فضائی آپریشن کیا، جس کے دوران شدت پسندوں کے سات اہم ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ذرائع کے مطابق اس کارروائی میں طالبان کمانڈر اختر محمد سمیت متعدد دہشت گرد ہلاک ہوئے۔
پکتیکا کے ضلع برمل میں پاکستانی جیٹ طیاروں نے دہشت گردوں کی پناہ گاہوں پر درست نشانہ لگایا، جس کے نتیجے میں زوردار دھماکوں کی آوازیں دور دور تک سنی گئیں۔ اس کارروائی میں شدت پسندوں کے استعمال میں آنے والی تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا۔ افغانستان کے ننگرہار صوبے کے ضلع خوگیانی میں بھی دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور مبینہ تربیتی مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔ خاص طور پر مرغہ علاقے میں واقع بنوسی مدرسہ میں دھماکے سے دس سے زائد افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے، جو کمانڈر اختر محمد کے زیر کنٹرول مرکز سے منسلک تھے۔ ننگرہار کے ضلع کامی میں بھی دو اہداف کامیابی کے ساتھ نشانہ بنائے گئے اور فضائی نگرانی جاری ہے۔
پاکستان کی وزارت اطلاعات و نشریات کے مطابق یہ کارروائی دہشت گردوں کے جوابی اقدامات کے پیش نظر کی گئی، جس میں خارجی دہشت گرد، فتنہ الخوارج اور اس کے وابستہ گروہ، نیز اسلامک اسٹیٹ خراسان کے ٹھکانوں کو انٹیلی جنس بنیادوں پر نشانہ بنایا گیا۔ وزارت نے افغان عبوری حکومت سے توقع ظاہر کی کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے اور دہشت گرد گروہوں کے خلاف ٹھوس اقدامات کرے، تاکہ پاکستانی عوام کی سلامتی اور تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔
وزارت نے بین الاقوامی برادری سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ مثبت اور تعمیری کردار ادا کرے اور طالبان حکومت کو دوحہ معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی پاسداری پر آمادہ کرے، تاکہ افغان سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہ ہو اور خطے میں امن و استحکام قائم رہے۔ پاکستان نے واضح کیا کہ اس کے پاس ناقابلِ تردید شواہد موجود ہیں کہ حالیہ دہشت گردانہ کارروائیاں خارجی عناصر کی قیادت اور ہینڈلرز کی ایما پر انجام دی گئی ہیں۔
یہ کارروائی پاکستان کی طرف سے اپنی سرحدوں اور شہریوں کی حفاظت کے لیے کی گئی ایک مؤثر اور محتاط اقدام قرار دی گئی ہے، جس کا مقصد دہشت گردی کے خفیہ ٹھکانوں اور ان کے انفرا اسٹرکچر کو مکمل طور پر تباہ کرنا اور مستقبل میں سرحد پار خطرات کو کم کرنا ہے۔