کینیڈا سے توانائی خریدنے کے لیے مکمل تیارہیں،بھارتی ہائی کمشنر

اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز )  کینیڈا میں ہندوستان کے ہائی کمشنر دنیش پٹنائک نے کہا ہے کہ ہندوستان کینیڈا سے کسی بھی قسم کی توانائی خریدنے کے لیے مکمل تیار ہے

یہ قدم دونوں ممالک کے تعلقات میں نئی سمت پیدا کر سکتا ہے۔ یہ بیان وزیر اعظم مارک کارنی کے ہندوستانی دورے سے کچھ دیر قبل سامنے آیا ہے، جسے دو طرفہ تجارت اور نئے اقتصادی معاہدوں کے حوالے سے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔پٹنائک نے کہا کہ ہندوستان کی تیزی سے بڑھتی معیشت کو توانائی کی بڑی مقدار کی ضرورت ہے، جبکہ ملک کے اپنے قدرتی وسائل محدود ہیں، اس لیے وہ خام تیل، ایل پی جی، ایل این جی اور دیگر توانائی کی مصنوعات کی درآمد میں دلچسپی رکھتا ہے۔ انہوں نے کینیڈا کی وفاقی حکومت سے اپیل کی کہ توانائی کے منصوبوں کی منظوری کے عمل کو تیز کیا جائے تاکہ ہندوستان کی بڑھتی ضروریات بروقت پوری ہو سکیں۔انہوں نے بتایا کہ اس دورے کا بنیادی مقصد نئے تجارتی معاہدے کرنا اور ممکنہ آزاد تجارتی معاہدے پر بات چیت شروع کرنا ہے، جس سے امریکی مارکیٹ پر انحصار کم کرنے اور دیگر ممالک کے ساتھ تجارتی مواقع بڑھانے میں مدد ملے گی۔ پٹنائک نے کہا کہ بھارت اور کینیڈا کے تعلقات، جو پچھلے کچھ سالوں میں کشیدہ تھے، اب بتدریج بہتر ہو رہے ہیں اور اقتصادی تعاون اس بہتری کو مزید مضبوط کر سکتا ہے۔انہوں نے یورینیم کے شعبے کو دونوں ممالک کے لیے سب سے بڑا موقع قرار دیا۔ بھارت 2047 تک اپنی جوہری توانائی کی صلاحیت کو 8.7 گیگا واٹ سے بڑھا کر 100 گیگا واٹ تک لے جانے کا منصوبہ رکھتا ہے، اور کینیڈا، دنیا کا دوسرا سب سے بڑا یورینیم پیدا کرنے والا ملک، اس ہدف میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ ساسکیچیوان کے پریمیئر سکاٹ مو نے بھی اس خیال کی حمایت کی اور بتایا کہ ان کے صوبے میں توانائی اور زرعی مصنوعات کی بڑی مقدار موجود ہے جس کی ہندوستان کو ضرورت ہے۔

پٹنائک نے کہا کہ فی الحال کینیڈا کی زیادہ تر توانائی امریکہ کو فراہم ہوتی ہے، لیکن مستقبل میں ہندوستان ایک بڑا صارف بن سکتا ہے۔ توانائی کے شعبے میں بڑھتے ہوئے تعاون سے نہ صرف دونوں ممالک کے تعلقات کو نئی تقویت ملے گی بلکہ عالمی توانائی منڈی میں بھی توازن پیدا ہوگا۔ممبئی پہنچنے کے بعد ایک گھنٹے کے اندر سکاٹ مو نے ہندوستان کے جوہری توانائی کے محکمے سے ملاقات کی اور یورینیم کے معاہدے کے لیے اپنا موقف پیش کیا۔ پٹنائک کے مطابق، کینیڈا توانائی کی سپر پاور ہے لیکن اس کی موجودہ سپلائی زیادہ تر امریکہ کو جاتی ہے، اس لیے ہندوستان مستقبل میں کینیڈا کا سب سے بڑا گاہک بن سکتا ہے۔ سینیٹر پیٹر بوم نے بھی کہا کہ کارنی کا دورہ کینیڈا کی معیشت کے لیے بڑے مواقع فراہم کر سکتا ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات اب ‘کرائسز مینجمنٹ’ کے مرحلے سے آگے بڑھ چکے ہیں۔یہ دورہ توانائی، تجارتی تعلقات اور جوہری توانائی کے شعبے میں نئے مواقع کے حوالے سے دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک نیا باب رقم کر سکتا ہے۔

 

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں