اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) سرائیل اور امریکا نے ایران کے دارالحکومت تہران میں مشترکہ فضائی حملہ کیا ہے
جس کے بعد ہنگامی سائرن بجا دیے گئے اور شہر میں خوف و ہراس کی لہر دوڑ گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی وزیر دفاع نے تصدیق کی کہ حملے میں امریکی فضائیہ نے بھی حصہ لیا اور یہ آپریشن مہینوں کی منصوبہ بندی کے بعد انجام دیا گیا۔ تہران میں تین شدید دھماکوں کی آواز سنی گئی، جبکہ متعدد اہم اہداف نشانہ بنائے گئے۔
۔
ایران کی جانب سے قطر میں العدید ائیربیس، کویت میں السلیم ائیربیس، یواےای میں الدفرا ائیربیس اور بحرین میں بحری ائیربیس کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں یو اے ای میں ایک شخص ہلاک ہوا جبکہ متعدد میزائلوں کو روک لیا گیا۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ایران خطے میں موجود تمام امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنائے گا اور اپنا دفاع جاری رکھے گا۔
اس دوران اسرائیل اور امریکا کی جانب سے ایران پر حملے جاری رہے جن میں ایرانی سپریم لیڈر اور صدر کو بھی نشانہ بنانے کی اطلاعات ہیں، تاہم ایرانی فوجی حکام نے اس پر کسی قسم کا تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔ حملوں میں متعدد ایرانی پاسداران انقلاب گارڈز کے سینئر کمانڈرز اور سیاسی حکام بھی جاں بحق ہوئے۔ امریکی وزارت جنگ نے ایران کے خلاف آپریشن کو "Epic Fury” کا نام دیا۔
ایران کی طرف سے اسرائیل کے خلاف بھی میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے، جن میں تقریباً 75 میزائل فائر کیے گئے جبکہ جنگی طیارے اور میزائل عراق کی فضائی حدود میں دیکھے گئے۔ یمن کے حوثیوں نے بھی اسرائیل اور سمندری راستوں پر جہازوں کو نشانہ بنایا، اور متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظبی اور کویت میں زوردار دھماکے سنے گئے۔ کویتی افواج نے کئی ایرانی میزائل فضا میں تباہ کر دیے جبکہ سائرن بجنے لگے۔
قطر میں متعدد دھماکے ہوئے اور شہریوں کو فوجی مقامات سے دور رہنے کی ہدایت کی گئی، بحرین میں امریکی بحری بیس پر میزائل حملے کے بعد دھوئیں کے بادل اٹھے اور خطرے کے سائرن بجائے گئے۔ سعودی عرب کے شہر ریاض اور دبئی کے علاقے مارینا میں بھی دھماکے سنے گئے۔ یو اے ای نے حملے کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا اور اپنی فضائی حدود کو جزوی طور پر عارضی بند کر دیا۔
خطے میں جاری کشیدگی نے عرب ممالک میں عام شہریوں کی زندگیوں کو بھی متاثر کیا ہے، اور حکومتوں نے شہریوں کو محفوظ مقامات پر جانے اور سرکاری ذرائع سے معلومات حاصل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان یہ تازہ جھڑپیں خطے میں کشیدگی کو شدید تر کر رہی ہیں اور عالمی سطح پر صورتحال نازک بنتی جا رہی ہے۔