اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) جس میں افغان طالبان کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ کے مطابق 28 فروری کی صبح تک آپریشن کے دوران افغانستان کے 37 مقامات کو فضائی کارروائی میں نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں افغان طالبان کے 331 کارندے ہلاک اور 500 سے زائد زخمی ہوئے۔ اس دوران طالبان کی 104 چیک پوسٹیں تباہ ہوئیں جبکہ 22 پر پاک فوج کا مکمل کنٹرول قائم ہو گیا، اور 163 ٹینک و مسلح گاڑیاں بھی تباہ کی گئیں۔
پاک فضائیہ نے ننگرہار اور قندھار میں افغان فوج کے ہیڈ کوارٹرز کو نشانہ بنا کر مکمل تباہ کر دیا، جبکہ لغمان، کابل اور پکتیکا میں بھی فضائی کارروائیاں کی گئیں۔ سرحدی علاقوں میں پاک فوج نے متعدد افغان چیک پوسٹوں پر قبضہ کر کے پاکستان کا پرچم لہرایا اور دشمن کے اہم ایمونیشن ڈپو، ٹینک، آرٹلری اور لاجسٹک بیس تباہ کیے۔قلعہ سیف اللہ، غلام خان، اعظم وارسک اور رحیم تھانہ پوسٹ سمیت کئی سیکٹرز میں افغان طالبان کی دراندازی ناکام بنائی گئی اور متعدد دہشتگرد ہلاک ہوئے۔ پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے تورخم، مہمند، خیبر، چترال، کرم اور باجوڑ سیکٹرز میں دشمن کی پیش قدمی کو ناکام بنایا اور کئی چیک پوسٹیں تباہ کیں۔
افغان طالبان کی ہزیمت کے بعد سول آبادی پر بھی حملے کیے گئے، جن میں پنج افراد زخمی ہوئے، جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کر کے علاج فراہم کیا گیا۔ پاکستانی سکیورٹی فورسز نے بلااشتعال جارحیت کا بھرپور جواب دیتے ہوئے دشمن کو پسپا کر دیا اور سرحدی دفاع مزید مضبوط کر دیا۔ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج کی کارروائیوں میں اب تک 274 افغان طالبان اور حمایت یافتہ فتنۃ الخوارج کے کارندے مارے گئے، 400 زخمی ہوئے، 73 چیک پوسٹیں تباہ ہوئیں اور 18 پاکستان کے قبضے میں آئیں۔ 115 ٹینک، آرٹلری گنز، اے پی سیز اور بکتر بند گاڑیاں بھی تباہ ہو چکی ہیں۔ آپریشن غضب للحق اپنے تمام اہداف کی تکمیل تک جاری رہے گا۔