اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)کینیڈا کے شہر رچمنڈ ہل میں ہفتہ کے روز ایرانی نژاد افراد کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی اور ایران میں نظام کی تبدیلی کے مطالبے کے حق میں ریلی نکالی۔
مظاہرین گزشتہ کئی ماہ سے جاری احتجاجی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے یانگ اسٹریٹ پر مارچ کرتے رہے۔ شرکا کی تعداد ہزاروں سے لے کر ممکنہ طور پر دسیوں ہزار تک بتائی جا رہی ہے۔
مظاہرین نے اسرائیل اور امریکا کی جانب سے ایرانی حکومت کے خلاف فوجی کارروائی کی خبروں پر امید کا اظہار کیا اور اسے ایران میں تبدیلی کی جانب ایک قدم قرار دیا۔ ریلی کے منتظمین میں شامل ایلن بوستاکیان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت ایران پر قابض ہے اور ایرانی عوام کو نقصان پہنچا رہی ہے۔
شرکا نے ایک بار پھر جلاوطن ولی عہد رضا پہلوی کی وطن واپسی کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہی ایسی قیادت فراہم کر سکتے ہیں جو ملک کو جمہوری نظام کی طرف منتقل کرنے میں مدد دے سکے۔ ایک مظاہرہ کرنے والے نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ حکومت بدلے گی اور عوام دوبارہ اختیار حاصل کریں گے۔ ایک اور شریک نے کہا کہ بین الاقوامی مدد سے حکومت کے ستون کمزور ہوں گے اور اس کے بعد ایرانی عوام خود فیصلہ کریں گے کہ آگے کیا کرنا ہے۔
کچھ مظاہرین نے ایران میں موجود اپنے اہلِ خانہ کے حوالے سے تشویش بھی ظاہر کی، خصوصاً انٹرنیٹ بندش کے باعث رابطے منقطع ہونے پر۔ سپیدہ صابری نامی خاتون نے بتایا کہ وہ تین دن سے اپنے والد اور بہن سے بات نہیں کر سکیں اور شدید پریشانی میں مبتلا ہیں۔ ایک اور مظاہر مزیار مومنی نے کہا کہ بیرونِ ملک ایرانی برادری کو گزشتہ کئی دہائیوں سے اپنے عزیزوں کی سلامتی پر خدشات لاحق رہے ہیں۔ ان کا اشارہ انیس سو اناسی کے انقلاب کی جانب تھا جس کے بعد موجودہ حکومت قائم ہوئی۔
مقامی پولیس کی جانب سے ریلی کے شرکا کی باضابطہ تعداد جاری نہیں کی گئی، تاہم اس سے قبل تیرہ فروری کو نارتھ یارک میں ہونے والی ایک بڑی ریلی میں تقریباً تین لاکھ پچاس ہزار افراد نے شرکت کی تھی، جہاں ایران میں حکومتی جبر کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اسی ماہ ٹورنٹو کے مرکزی علاقے میں ہونے والی ایک پُرامن ریلی میں ڈیڑھ لاکھ کے قریب افراد شریک ہوئے تھے۔
دوسری جانب ٹورنٹو میں امریکی قونصل خانے کے باہر درجنوں افراد نے امریکا اور اسرائیل کی فوجی کارروائی کے خلاف احتجاج کیا۔ اسی نوعیت کے مظاہرے نیویارک اور لندن سمیت دنیا کے دیگر شہروں میں بھی منعقد ہوئے۔
امریکا میں قائم انسانی حقوق کے خبر رساں ادارے کے مطابق اٹھائیس دسمبر سے شروع ہونے والے ملک گیر مظاہروں میں ہلاکتوں کی تعداد سات ہزار سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ مزید اموات کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ایرانی حکومت نے گزشتہ ماہ اپنے بیان میں کہا تھا کہ تین ہزار ایک سو سترہ افراد ہلاک ہوئے۔