اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں خطرناک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے
جہاں ایران کی جانب سے دبئی اور عراق میں ڈرون حملوں کے بعد اسرائیل نے تہران میں تیل کے ذخیرے کو نشانہ بنایا ہے۔عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران نے ہفتے کے روز ڈرون حملوں کے ذریعے دبئی اور عراق کے شمالی شہر کو نشانہ بنایا۔ ان حملوں کے بعد خطے میں سیکیورٹی خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔دبئی میڈیا آفس کے مطابق ایک ایرانی ڈرون دبئی میں واقع ایک بلند و بالا رہائشی عمارت مرینا ٹاور سے ٹکرا گیا جس کے نتیجے میں عمارت میں آگ لگ گئی۔حکام کے مطابق حادثے کے دوران عمارت کے کچھ حصے سے ملبہ نیچے گر گیا جس کی زد میں آکر ایک پاکستانی شہری جاں بحق ہوگیا جبکہ متعدد افراد کو فوری طور پر محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا۔ امدادی ٹیموں اور فائر بریگیڈ نے موقع پر پہنچ کر آگ پر قابو پانے کی کوششیں شروع کر دیں۔
اربیل میں امریکی فوجی اڈے پر حملہ
ادھر عراق کے نیم خودمختار کرد علاقے میں بھی صورتحال کشیدہ رہی۔ عرب میڈیا کے مطابق اربیل انٹر ننیشنل اڈے کے قریب واقع ایک امریکی فوجی اڈے کو ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا،حملے کے بعد علاقے میں متعدد زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جبکہ ایئرپورٹ کے اطراف آگ کے شعلے بلند ہوتے دیکھے گئے۔ فوری طور پر جانی نقصان کی تفصیلات سامنے نہیں آسکیں تاہم سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے۔
اسرائیل کا تہران میں جوابی حملہ
ایرانی حملوں کے بعد اسرائیل نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے تہران میں ایک بڑے آئل ڈپو کو نشانہ بنایا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فضائی حملے کے نتیجے میں تیل کے ذخیرے میں شدید آگ بھڑک اٹھی جس کے باعث دور دور تک دھوئیں کے بادل نظر آئے۔ فائر فائٹرز اور ریسکیو ٹیمیں آگ پر قابو پانے کے لیے مسلسل کوششیں کر رہی ہیں۔
خطے میں جنگ کے خدشات
تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیل اور ایران کے درمیان براہ راست حملوں کے تبادلے نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑے پیمانے پر جنگ کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔ اگر صورتحال مزید خراب ہوئی تو اس کے اثرات خلیجی ممالک، عالمی تیل کی منڈی اور بین الاقوامی سیکیورٹی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ابھی تک ان حملوں کے حوالے سے متعلقہ حکومتوں کی جانب سے مکمل سرکاری تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں۔